1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

حکومت ’کوہِ نور‘ ہیرا واپس لائے، پاکستانی عدالت میں درخواست

پاکستانی شہر لاہور کی ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائرکی گئی ہے، جس میں حکومت سے ’کوہِ نور‘ نامی وہ بیش قیمت ہیرا برطانیہ سے واپس لانے کے لیے کہا گیا ہے، جس کے حصول کی کوششیں حکومتِ بھارت بھی ایک عرصے سے کر رہی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی اس درخواست میں بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ نے یہ ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ سے چھینا تھا اور اسے برطانیہ لے جایا گیا تھا۔

بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق جعفری نے اس درخواست میں کہا ہے کہ ’جب 1953ء میں ملکہ الزبتھ ثانی نے برطانیہ کا تخت سنبھالا تو یہ ہیرا اُن کے تاج کا حصہ تھا‘۔ درخواست گزار کے مطابق ’ملکہ ا لزبتھ کوہِ نور نامی اس ہیرے پر کوئی حق نہیں رکھتیں‘۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ہیرے کا وزن 105 قیراط ہے اور اس کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔

بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کہتے ہیں:’’کوہِ نور پنجاب صوبے کا ثقافتی ورثہ ہے اور اس کے شہری اس کے اصل مالک ہیں۔‘‘ اُنہوں نے ہائیکورٹ پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کو یہ ہدایت جاری کرے کہ وہ یہ ہیرا برطانوی حکومت سے واپس لے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ ہیرا صدیوں پہلے آندھرا پردیش کے ضلع گجرات میں گولکنڈہ کی کانوں سے نکالا گیا تھا۔ ایک وقت تھا کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا ہیرا تصور کیا جاتا تھا۔

Elizabeth II Krönung

’جب دو جون 1953ء کو ملکہ الزبتھ ثانی نے برطانیہ کا تخت سنبھالا تو یہ ہیرا اُن کے تاج کا حصہ تھا‘

مختلف شاہی خاندانوں سے ہوتا ہوا یہ ہیرا پنجاب کے سکھ حکمرانوں کے پاس پہنچا اور جب 1849ء میں سکھ سلطنت کو برطانوی افواج کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی اور اُن کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی تو پھر یہ ہیرا بھی برطانیہ کے پاس چلا گیا۔ آج کل کوہِ نور ملکہ الزبتھ ثانی کے تاج کی زینت بنا ہوا ہے۔

بھارت بھی برطانیہ سے کوہِ نور سمیت وہ تمام نوادرات واپس مانگ رہا ہے، جو نوآبادیاتی دور میں لوٹے گئے تھے۔ جب 1997ء میں ملکہ الزبتھ آزادی کی پچاس ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے سرکاری دورے پر گئیں تو بھارتی عوام کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں بسنے والے بھارتی شہریوں نے بھی اس ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔