1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکومت پی ٹی آئی کے کارکنوں کو فوراً رہا کرے، ایمنسٹی

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں حزب اختلاف کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ایک ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا شاخ کی ڈائریکٹر چمپا پٹیل نے اپنے ایک بیان میں اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے زیر حراست کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے بقول، ’’پولیس کے جانب سے اس جابرانہ کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ پاکستان کا آئین عوام کو احتجاج، اجتماع اور اظہار کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔‘‘ پٹیل نے مزید کہا کہ حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تمام زیر حراست افراد کو غیر مشروط طور پر رہا کریں تاکہ وہ اپنے حق کا استعمال کریں اور انہیں پر امن طور پر مظاہرہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران ان کے در کارکن جاں بحق ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کے مطابق، ’’ان دونوں کارکنوں کی ہلاکت آنسو گیس کے ایسے گولے برسانے سے ہوئی، جن کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔‘‘

اسلام آباد میں پولیس پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو دارالحکومت پہچنے نہیں دے رہی اور اس صورتحال میں متعدد افراد نے شہر سے باہر کھلی فضا میں رات بسر کی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس دوران پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پشاور اور اسلام آباد کے درمیان ہائی وے کو بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

 پہلے سے اعلان شدہ یہ مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب پاکستانی کی عدالت عظمٰی نے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے پاناما لیکس میں نام آنے کے ایک مقدمے کی سماعت شروع کی ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو جواب داخل کرانے کے لیے دو دن کا وقت دیا اور سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔ کچھ مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ملک کی طاقت ور فوج کا کردار انتہائی اہم ہے اور ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو اپنا اقتدار بچانے کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنا پڑ جائے۔

ملتے جلتے مندرجات