1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حکومت پاکستان کی مہربانی، رمضان کی برکتیں صحافیوں کے لیے

حکومت پاکستان نے صحافیوں کو خوش کرنے کے لیے ملک بھر کے پریس کلبوں میں یوٹیلٹی سٹورز کاؤنٹرز کے قیام کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ آج اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں بھی ایک ایسے ہی یوٹیلٹی سٹور کا افتتاح کیا گیا۔

default

یہ افتتاح حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کیا۔ چوہدری شجاعت حسین کے چچا زاد بھائی چوہدری پرویز الٰہی موجودہ حکومت میں سینئر وزیر ہیں اور یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کا ادارہ ان کی وزارت کے ماتحت ہے۔ اس کارپوریشن کے تحت چلنے والے سٹورز پر حکومت عوام کو سستی اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ تاہم ان سٹورز سے اشیائے خورد و نوش لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

صحافیوں کو نوازنے کے لیے مشہور چوہدری برادران کی طرف سے نیشنل پریس کلب میں یوٹیلٹی سٹور کے افتتاح کو بعض حلقے سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے معروف ٹی وی چینل ڈان نیوز سے وابستہ صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے لیے کسی طور یہ مناسب نہیں کہ وہ حکومت سے اس طرح کی مراعات حاصل کریں، ’’عام لوگ بیچارے چند روپے بچانے کے لیے روزے کی حالت میں کئی کئی گھنٹے یوٹیلٹی سٹورز کے باہر قطاریں بناتے ہیں

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Flüchtlinge warten auf Lebensmittel

عام لوگ چند روپے بچانے کے لیے روزے کی حالت میں کئی کئی گھنٹے یوٹیلٹی سٹورز کے باہر قطاریں بناتے ہیں

اور ہمارے صحافی بھائی پریس کلب میں بیٹھے بٹھائے یہ اشیاء حاصل کریں گے۔ ایسے وقت میں جب ان صحافیوں کو عام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی خبر حکومت تک پہنچانی چاہیے تھی، یہ صحافی پریس کلب جا کر اپنے لیے آٹا، دال اور چینی سستے داموں خریدیں گے، جو میرے خیال میں بہت شرم کی بات ہے۔ جو صحافی اس طرح کے مفاد حکومت سے لیتے ہیں وہ عام لوگوں کی کیا بات کریں گے؟‘‘

دوسری جانب وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 13.7 فیصد ہے۔ رمضان سے پہلے جولائی کے آخری ہفتے میں پھلوں، سبزیوں اور گوشت کی قیمتوں میں تین سے لے کر پچاسی فیصد تک اضافہ ہوا۔

حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جو سستے رمضان بازار لگائے گئے ہیں ان میں خریداری کرنیوالے یہاں بھی اشیاء کو مہنگا اور غیر معیاری قرار دیتے ہیں۔ خریداری کے لیے آئے ایک سرکاری ملازم نے بتایا، ’’یہ سیب آپ کے سامنے ہیں۔ اب ان کی قیمت ایک سو 20 روپے فی کلو ہے، رمضان سے پہلے یہ 70 سے 80 روپے فی کلو تھے۔‘‘

ایک اور خاتون نے بتایا، ’’قیمتیں ڈبل ہو چکی ہیں۔ ابھی میں نے چار سو روپے فی کلو انگور خریدے ہیں‘‘

دوسری جانب حکومتی دعوؤں کے برعکس ملک کے مختلف حصوں میں سحر و افطار کے وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہ رمضان میں بھی بجلی کی کمی کے سبب دیہاتوں میں 16 سے 18 جبکہ شہروں میں 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم / اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد