حکومت مخالف مظاہرے ختم ہو گئے ہیں، پاسدارانِ انقلاب | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکومت مخالف مظاہرے ختم ہو گئے ہیں، پاسدارانِ انقلاب

ایران کی جدید تربیت یافتہ حکومتی عسکری سپاہ پاسداران انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں کے مکمل خاتمے اور اپنی فتح کا اعلان کیا ہے۔ آج ایرانی پارلیمنٹ کا بند دروازے کے پیچھے ہونے والے اجلاس میں مظاہروں پر غور و خوص کیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے اتوار سات دسمبر کو اعلان کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرے پوری طرح اب ختم ہو گئے ہیں اور ایسے مظاہرے کرنے والوں پر حکومت کو مکمل غلبہ حاصل ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں نے پاسداران انقلاب کی جانب سے مظاہرین پر اپنی فتح حاصل کرنے کے اعلان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

ایران میں مظاہرے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منقسم

ایرانیوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، شیریں عبادی

امریکا نے داخلی معاملے میں مداخلت کی ہے، ایران

بدامنی کے لیے رقوم، ہتھیار ایران کے دشمنوں نے دیے، خامنہ ای

اٹھائیس دسمبر سن 2017 سے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے تقریباً سارے ایران میں پھیل گئے تھے اور ان میں کم از کم 21 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ پاسدارانِ انقلاب نے ان مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی حتمی تعداد نہیں بتائی۔ اب تک صرف نوے طلبا کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

پاسدارانٍ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان حکومت مخالف مظاہروں کے پس پردہ امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب فعال تھے۔ اس بیان میں مظاہرین کو اکسانے کا الزام تہران حکومت کے خلاف سرگرم اپوزیشن گروپ مجاہدینِ خلق کے ساتھ ساتھ سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے مخالف شاہی خاندان کے حامیوں پر عائد کیا گیا ہے۔

Iran - Teheran Stadtrat (bashgah khabanegaran)

مظاہروں کے بعد کی صورت حال پر ایرانی پارلیمنٹ کا بند دروازے کے پیچھے خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا

ان حکومت مخالف مظاہروں کے بعد کی صورت حال پر آج ایرانی پارلیمنٹ کا بند دروازے کے پیچھے خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا۔ اس پارلیمانی سیشن میں ایران کے سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں نے پارلیمان کے اراکان کو ملکی سلامتی کے تناظر میں ریاستی ترجیحات پر معلوماتی تفصیلات  فراہم کی ہیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ جلال میزائی کا کہنا ہے کہ سلامتی کے اہلکاروں نے مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں تفصیلات دینے کے علاوہ ان کے ساتھ جیل میں رکھے جانے والے سلوک سے بھی آگاہ کیا۔

پاسداران انقلاب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی وفادار فوج ہے۔ اس فوج کے لیے سالانہ بنیاد پر ایرانی بجٹ میں ایک خطیر رقم مختص کی جاتی ہے۔ حالیہ مظاہروں میں احتجاج کرنے والوں نے پاسدارانِ انقلاب کے لیے مختص وسیع رقوم پر بھی آواز بلند کی تھی۔ یہ فوج ملک کے اندر کسی بھی معاملے پر مداخلت کر سکتی ہے۔

DW.COM