1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکمت یار پر اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم، واپسی کی راہ ہموار

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور طاقت ور جنگی رہنما گلبدین حکمت یار کے خلاف عائد کردہ اپنی پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ حکمت یار عسکریت پسند گروہ حزب اسلامی کے رہنما ہیں، جو ابھی تک روپوش ہیں۔

Afghanistan Gulbuddin Hekmatyar (picture-alliance/AP Photo/K. Jebreili)

گلبدین حکمت یار ماضی مین افغانستان کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں

افغان دارالحکومت کابل سے ہفتہ چار فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق گلبدین حکمت یار کے خلاف ان عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب اس ’بدنام وار لارڈ‘ کے کھلے بندوں افغانستان لوٹنے اور ملکی سیاست میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

گلبدین حکمت یار اور ان کے عسکریت پسند گروہ حزب اسلامی کے ساتھ افغانستان میں صدر اشرف غنی کی حکومت کا ایک امن معاہدہ گزشتہ برس ستمبر میں طے پایا تھا، جس کے بعد کابل حکومت نے عالمی سلامتی کونسل سے یہ درخواست کی تھی کہ حکمت یار اور ان کی مسلح تنظیم پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کر دی جائیں۔

’کابل کے قصائی‘ کا ملکی سیاست میں واپسی کا امکان

افغان حکومت اور حزب اسلامی کے مابین امن معاہدہ

کابل حکومت بد نیت ہے، حکمت یار

روئٹرز کے مطابق یہ درست ہے کہ نیو یارک میں سلامتی کونسل نے یہ پابندیاں اٹھا لی ہیں اور ایسا کابل حکومت کی درخواست پر ہی کیا گیا ہے، تاہم افغانستان میں بہت سے شہریوں اور انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی طرف سے حکمت یار اور کابل حکومت کے مابین امن معاہدے پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیل کے تحت حزب اسلامی، اس کے مرکزی رہنما اور بہت سے جنگجوؤں کے لیے معافی کا اعلان بھی کیا گیا ہے حالانکہ حکمت یار اور حزب اسلامی کے عسکریت پسندوں کی طرف سے جرائم کا ارتکاب کسی بھی شبے سے بالا تر ہے۔

گلبدین حکمت یار اور ان کی حزب اسلامی کا آج کل کے افغانستان میں جاری خونریز مسلح مزاحمت میں کردار انتہائی معمولی ہے لیکن سن 1990 کے عشرے میں ہندو کش کی اس ریاست میں تب بھی جاری خانہ جنگی میں حکمت یار ایک انتہائی اہم شخصیت رہے ہیں۔

Leinwandübertragung Gulbuddin Hekmatyar (picture-alliance/AP Photo/R. Gul)

گزشتہ برس ستمبر میں طے پانے والے امن معاہدے میں تاحال روپوش حکمت یار کی شمولیت صرف ایک ویڈیو پیغام تک ہی محدود رہی تھی

تب حزب اسلامی کے جنگجو حکمت یار کے حکم پر انسانی حقوق کی بہت سی دیگر لیکن شدید خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے کے علاوہ افغان دارالحکومت کابل پر اندھا دھند راکٹ بھی برساتے رہتے تھے۔

حکمت یار کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق سلامتی کونسل کے فیصلے پر فوری ردعمل کے لیے جب روئٹرز نے اس افغان جنگی سردار کے ترجمان افراد اور کابل حکومت سے رابطے کی کوشش کی، تو کوئی بھی فریق کچھ کہنے کے لیے دستیاب نہیں تھا۔

اقوام متحدہ نے حکمت یار کا نام اپنی جس بلیک لسٹ میں شامل کر رکھا تھا، اس میں ان افراد کے نام ہیں، جو دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ، شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش اور دیگر عسکریت پسند گروپوں سے رابطے رکھتے ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت اقوام متحدہ نے حکمت یار کے تمام اثاثے منجمد کر رکھے تھے، ان کے سفر پر بھی پابندی عائد تھی اور انہیں یا ان کے گروپ کو کوئی ہتھیار بھی مہیا نہیں کیے جا سکتے تھے۔ اب لیکن یہ جملہ پابندیاں ختم ہو گئی ہیں کیونکہ حکمت یار کا نام اس بلیک لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔

گلبدین حکمت یار اس وقت کہاں ہیں، یہ بات کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ گزشتہ برس ستمبر میں انہوں نے کابل حکومت کے ساتھ جو امن معاہدہ کیا تھا، اس میں حکمت یار کی شمولیت ایک ویڈیو پیغام تک ہی محدود رہی تھی، جو انہوں نے کسی نامعلوم جگہ سے ریکارڈ کروا کر بھیجا تھا۔

اس امن معاہدے کی امریکا سمیت، جس نے 2003ء میں حکمت یار کو ایک ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا تھا، کئی غیر ملکی حکومتوں نے بھی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ یہ معاہدہ افغانستان میں قیام امن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

DW.COM