حوثی باغیوں کے پاس بیلسٹک میزائل کیسے آئے؟ | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حوثی باغیوں کے پاس بیلسٹک میزائل کیسے آئے؟

سعودی عرب پر متعدد بیلسٹک میزائل حملوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حوثی باغیوں کے پاس یہ میزائل کہاں سے آئے؟ محقق پیٹر ویزمان کے مطابق غالباﹰ یہ ہتھیار یمن میں جنگ سے قبل وہاں موجود نہیں تھے۔

اس بارے میں اسٹاک ہولم میں بین الاقوامی پیس ریسرچ اینسٹیٹیوٹ کے ہتھیاروں اور عسکری پھیلاؤ کے شعبے کے سینیئر محقق پیٹر ویزمان سے ڈی ڈبلیو کی خصوصی گفت گو۔

ڈی ڈبلیو: حوثی باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے منگل کے روز سعودی دارالحکومت پر بیلسٹک میزائل داغا۔ ان کے پاس یہ عسکری ٹیکنالوجی کہاں سے آئی؟

سعودی شاہی محل پر میزائل حملہ جنگ کا نیا باب ہے، حوثی باغی

یمنی باغیوں کے لیے ایرانی میزائل: حوثیوں کی تردید

ایران حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کر رہا ہے، امریکی الزام

پیٹر ویزمان: ہم اس بارے میں اب بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جو میزائل داغے جا رہے ہیں، وہ یمن میں خانہ جنگی سے قبل وہاں موجود نہیں تھے۔ مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ سابقہ یمنی حکومت نے مختلف طرح کے بیلسٹک میزائلوں کے شعیے میں اچھا خاصا سرمایہ خرچ کیا تھا۔ مثال کے طور پر پندرہ برس قبل شمالی کوریا کی جانب سے یمن کو کچھ میزائل مہیا کیے گئے۔ مگر یہ میزائل وہ نہیں جو اب استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جو تصاویر اور معلومات ہم تک پہنچی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختلف طرز کے میزائل ہیں۔

سعودی عرب اور امریکا کا بڑے واضح انداز سے کہنا ہے کہ یہ میزائل ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کو مہیا کیے گئے یا ایران نے یمن ہی میں حوثی باغیوں کو یہ میزائل تیار کرنے کی تربیت دی۔ حالاں کہ ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد مضبوط ہیں، مگر ہمیں اب بھی اس بابت غیرجانبدارانہ تجزیے کی ضرورت ہے۔ خصوصاﹰ یہ تجزیہ کسی ایسے ملک کی جانب سے سامنے آئے، جس کے ایران کے ساتھ اختلافات نہ ہوں۔ ہمیں مزید معلومات درکار ہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ یہ میزائل یمن کہاں سے پہنچے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: کیا حوثی باغیوں کے پاس طویل فاصلے تک مار کی صلاحیت کے حامل میزائل بھی ہو سکتے ہیں؟

پیٹر ویزمان: میرے خیال میں ایسا شاید ممکن نہ ہو کیوں کہ ایسی ٹیکنالوجی حوثیوں کے پاس نہیں ہو سکتی۔ گو کہ ایران کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے، مگر میرے خیال میں ایران کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ حوثی باغیوں کو یہ ٹیکنالوجی دے کر اس مسئلے میں اور زیادہ الجھے۔ ایران کی کوشش ہو گی کہ وہ یہ میزائل فقط اپنے پاس رکھے۔ حوثی باغیوں تک طویل فاصلے تک مار کی صلاحیت کے حامل میزائل کی فراہمی نہ ایران کے اپنے مفاد میں ہے اور نہ ہی حوثی باغیوں کے مفاد میں۔

ویڈیو دیکھیے 01:06
Now live
01:06 منٹ

یمنی خانہ جنگی کی تباہ کاریاں

کیا ہتھیاروں کی ترسیل پر قدغن اس کشیدگی میں کمی کا باعث ہو سکتی ہے؟

اس وقت مسئلہ صرف ہتھیاروں کی ترسیل کا نہیں ہے۔ حوثیوں اور سعودی فورسز نے ایک دوسرے پر اس انداز سے حملے کیے کہ عام شہریوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسی نکتے پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ حوثیوں کو ریاض کی جانب میزائل نہیں داغنے چاہییں، دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے یمن میں عسکری طاقت کا استعمال دیکھا جائے، تو اس بات پر حیرت نہیں ہو گی کہ حوثی باغی اس کا جواب اس انداز سے دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں بنیادی معاملہ یہ ہے کہ کس طرح فریقین کو مزاکرات کی میز پر لایا جائے اور کس طرح دیگر ممالک فریقین پر اتنا دباؤ ڈالیں کہ وہ بات چیت پر آمادہ ہوں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic