1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حوثی باغیوں کا نشانہ مکہ تھا یا جدہ کا ہوائی اڈہ؟

حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ کی سمت میں ایک شارٹ رینج میزائل داغا گیا تھا، جسے مکہ سے پینسٹھ کلومیٹر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس راکٹ کا نشانہ مکہ تھا یا پھر بین لاقوامی ہوائی اڈہ؟ اس بارے میں مختلف معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

یمن میں سعودی اتحادی فورسز سے لڑنے والے حوثی باغیوں کے اپنے بیان کے مطابق انہوں نے ایک شارٹ رینج میزائل سعودی عرب کی طرف داغا ہے۔ سعودی عرب کی نیوز ایجنسی ایس پی اے نے جمعے کے روز یہ اطلاع فراہم کی تھی کہ راکٹ کو مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ سے 65 کلومیٹر دوری کے فاصلے پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس راکٹ کے نتیجے میں ہونے والے نقصان سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

سعودی حکام نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے یہ راکٹ حملہ مکہ پر کیا گیا تھا۔ دوسری جانب حوثی باغیوں کے سیاسی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ پر راکٹ حملے کا الزام سرا سر جھوٹ پر مبنی ہے، ’’ہم کبھی بھی کسی مقدس شہر پر حملہ نہیں کریں گے۔‘‘

حوثی باغیوں کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ راکٹ حملہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کی طرف سے کئی شارٹ رینج میزائل سعودی عرب کی طرف فائر کیے گئے تھے تاہم ابھی تک ان راکٹوں کے نتیجے میں کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

دوسری جانب باغیوں کے حمایت یافتہ ٹیلی وژن المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے راکٹوں نے جدہ کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے اور یہ راکٹ حملے سعودی عرب کی اتحادی فورسز کے جواب میں کیے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق یہ راکٹ یمنی صوبے صعدہ سے فائر کیے گئے تھے اور جدہ اس مقام سے تقریباﹰ سات سو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جدہ کے شاہ عبدالعزیز ایئر پورٹ کا شمار سعودی عرب کے اہم ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔ حج یا عمرے کے لیے آنے والے زیادہ تر مسلم زائرین اسی ہوائی اڈے کا استعمال کرتے ہیں۔

فضائی آمد و رفت پر نظر رکھنے والے ادارے فلائٹ راڈار 24 کے مطابق حوثی باغیوں کے دعوے کے برعکس گزشتہ کئی روز سے جدہ ایئر پورٹ پر فضائی آمد و رفت بغیر کسی خلل کے جاری ہے۔