1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حملے کے تباہ کن نتائج ہوں گے، بشار الاسد کا انتباہ

شامی صدر بشار الاسد نےکہا ہے کہ وہ عالمی برداری کے دباؤ کا شکار ہوئے بغیرملک میں عسکری کریک ڈاؤن جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی طرف سے کیے جانے والے ممکنہ فوجی آپریشن سے وہ خوفزدہ نہیں ہیں۔

default

برطانوی ہفتہ وار جریدے دی سنڈے ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی خاطر لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دمشق حکومت ملک میں جاری خون خرابے پر افسوس کرتی ہے تاہم اسے ملک میں مسلح باغی گروہوں کو ختم کرتے ہوئے قانون کا بول بالا کرنا ہے۔

بشار الاسد نے مزید کہا ہے، ’یہ تنازعہ جاری رہے گا اورشام کو دبانے کا سلسلہ بھی ختم نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود شامی حکومت ہر گز نہیں جھکے گی۔ شامی صدر نے عرب لیگ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام پر مغربی ممالک کے حملے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔ انہوں نےاس طرح کے ممکنہ حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام پر حملہ ہوا تو مشرق وسطی میں آنے والا زلزلہ اس خطے کو ہلا کر رکھ دے گا۔

شامی صدر بشار الاسد نے دی سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ شام پرعسکری حملے کے نتائج تباہ کن ثابت ہوں گے، ’فوجی مداخلت سے نہ صرف خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا بلکہ اس سے تمام ممالک بری طرح متاثر ہوں گے۔‘

NO FLASH Proteste in Zypern Syrien

اقوام متحدہ کےاعدادوشمار کے مطابق شام میں رواں برس مارچ سے شروع ہوئے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں 3500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

دریں اثناء عرب لیگ کی جانب سے امن منصوبے پر عمل کے لیے دمشق حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن بھی گزر گئی ہے۔ انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان کے مطابق ہفتے کے دن ہوئے فوجی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم ازکم چوبیس مزید افراد لقمہ اجل بن گئے۔

اقوام متحدہ کےاعدادوشمار کے مطابق شام میں رواں برس مارچ سے شروع ہوئے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں 3500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دمشق حکومت پر عالمی دباؤ میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف اپنے عسکری آپریشن کو ترک کر دے۔ عرب لیگ شام کی رکنیت معطل کر چکی ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک نے کہا ہے کہ اگر شامی صدر طاقت کے ناجائز استعمال کو ترک نہیں کرتے تو ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت برپا ہو سکتی ہے۔

شام میں اپوزیشن اور حکومت مخالف مظاہرین مغربی ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے وہ مداخلت کریں اور وہاں ’نوفلائی زون‘ قائم کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ نے بھی شامی صدر بشار الاسد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیام امن کے لیے مکالمت کا راستہ اختیار کریں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM