1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حملے کی صورت میں نیٹو رکن ایک دوسرے کا دفاع کریں گے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے نیٹو ارکان کے خدشات ختم کر دیے ہیں کہ کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں اس مغربی دفاعی اتحاد کے تمام رکن ممالک ایک دوسرے کا دفاع کریں گے۔

Litauen US-Verteidigungsminister Jim Mattis in Vilnius (picture-alliance/ZUMA Wire/DOD)

امریکی وزیر دفاع جِم میٹِس مئی میں لیتھوینیا میں نیٹو کے کئی رکن ملکوں کے دستوں کا معائنہ کرتے ہوئے

گزشتہ مہینے ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے ہیڈکوارٹرز برسلز میں اپنے خطاب کےدوران اس مغربی دفاعی اتحاد کی شِق نمبر پانچ کا حوالہ نہیں دیا تھا، جس کی رُو سے کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں تمام رکن ممالک کو ایک دوسرے کا دفاع کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ تب سے یورپی ممالک اور دیگر کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اِس شِق کا حوالہ نہ دے کر اُنہوں نے اس دفاعی اتحاد کو کمزور کیا ہے۔

جمعے کے روز امریکا کے دورے پر گئے ہوئے رومانیہ کے صدر کلاؤس ایوہانیس کے دورے کے موقع پر ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جانب سے آرٹیکل نمبر پانچ کی پاسداری کی جائے گی‘۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے معاہدے کی اِس شِق میں یہ کہا گیا ہے کہ نیٹو کے کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام نیٹو ارکان پر  حملہ تصور کیا جائے گا اور تمام اتحادی اُس ملک کا دفاع کرنے کے پابند ہوں گے۔

برسلز میں اپنے خطاب میں ٹرمپ نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام رکن ممالک اپنے اُس عہد کی پاسداری کریں، جس میں انہوں نے 2024ء تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا ذکر کیا تھا۔ تب ٹرمپ نے اِس شِق نمبر پانچ کا خاص طور پر حوالہ نہیں دیا تھا، جس کی اب تک عملاً ایک ہی مرتبہ یعنی گیارہ ستمبر 2011ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ضرورت پڑی تھی۔

Belgien NATO-Gipfel Rede Trump (picture alliance/abaca/K. Ozer )

برسلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب نے نیٹو کے رکن ملکوں کو مایوس کیا تھا

جمعے کو اپنی نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا:’’مَیں آرٹیکل پانچ کے لیے امریکا کے عزم کا اعادہ کر رہا ہوں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہمارے پاس ایک بہت ہی زیادہ طاقتور فورس موجود رہے اور اِس کے لیے جتنی بھی رقم ضروری ہو، وہ ادا کی جائے۔‘‘

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بار پھر امریکا کے اس عزم کا پُر زور اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ٹرمپ آئندہ مہینے اپنے دوسرے غیر ملکی دورے پر پولینڈ جائیں گے۔ مزید یہ کہ پولینڈ کے اس دورے کا مقصد نہ صرف اس مشرقی یورپی ملک کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کرنا ہے بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس دورے کے ذریعے نیٹو کے ’اجتماعی دفاع‘ کو مضبوط بنانے کے عزم پر بھی زور دینا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو ’فرسودہ‘ اور ’ازکار رفتہ‘ قرار دیا تھا۔ جمعے کو ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کے رکن ملکوں میں سے چند ایک ہی اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع کے لیے مختص کرنے کے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے مونٹی نیگرو کی شمولیت کے بعد سے نیٹو کے رکن ملکوں کی تعداد بڑھ کر  اُنتیس  ہو گئی ہے۔