1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حملے کم کرنے کی وجہ قیادت کی تبدیلی نہیں، طالبان

افغان طالبان نے ایسے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ ان کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سے ان کے حملوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے کے بعد آج سے وہ حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔

افغان حکومت اور نیٹو فورسز کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ جب سے طالبان کے خلاف امریکی کمانڈروں کو فضائی حملے کرنے کے لیے ’مزید آزادی‘ فراہم کی گئی ہے، تب سے انہیں طالبان کے خلاف کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

ایک رپورٹ میں مغربی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ملا محمد اختر منصور کی ہلاکت کے بعد سے طالبان کو بظاہر قیادت کے مسئلے کا سامنا ہے اور یہ کہ ان کے حملے سست روی کا شکار ہو گئے ہیں۔

Afghanistan Mullah Haibatullah Akhundzada

طالبان کے نئے سربراہ ملا ہیبت اللہ

طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ان رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے حملوں میں کمی کی وجہ رمضان تھا کیوں کہ یہ سال کا گرم ترین موسم تھا لیکن امریکا کی قابض افواج کے کمانڈروں اور کابل میں ان کی کٹھ پتلیوں نے اس صورتحال کا غلط تاثر لیا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مجاہدین کمزور ہو گئے ہیں یا پھر قیادت میں تبدیلی کی وجہ سے انہیں مسائل کا سامنا ہے۔

طالبان کے اس ترجمان کے مطابق انہوں نے ایک مرتبہ پھر حملوں کا آغاز کر دیا ہے کیوں رمضان اور عید کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے جارحانہ کارروائیاں کرتے ہوئے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر تین وسطی اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب افغان حکام نے شمالی صوبہ قندوز میں ایک روزہ شدید لڑائی کے بعد طالبان فورسز کو پیچھے دھکیل دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ضلع قلعہ ذال کے سربراہ محبوب اللہ سعیدی کا کہنا تھا کہ اس دو طرفہ لڑائی میں طالبان کے ایک کمانڈر سمیت کم از کم آٹھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سکیورٹی فورسز کا بھی ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد چار بتائی گئی ہے۔

سعیدی کا مزید کہنا تھا کہ طالبان دور دراز کے دیہات کی طرف فرار ہو گئے ہیں اور اُن کی پسپائی کے بعد سے لڑائی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ شمال میں واقع صوبہ قندوز افغانستان کے سب سے غیر مستحکم صوبوں میں سے ایک ہے اور گزشتہ برس طالبان مختصر وقت کے لیے اس کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔