1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حملوں کی منصوبہ بندی کے شبے میں 15 سالہ نوجوان گرفتار

فرانسیسی پولیس نے ایک کم عمر نوجوان گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف تھا۔ فرانسیسی وزیر اعظم کے مطابق ملک کو 15 ہزار ملکی شدت پسندوں کی طرف سے خطرات کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اِس پندرہ سالہ نوجوان کو دارالحکومت پیرس کے مشرقی علاقے سے ہفتہ 10 ستمبر کو حراست میں لیا گیا۔ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ رابطوں کے شبے میں اس نوجوان کو پولیس نے رواں برس اپریل سے گھر پر ہی نظر بند کیا ہوا تھا تاہم اب اسلامی انتہا پسندوں کے ساتھ اُس کے رابطوں کی معلومات پر گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی پولیس کو شبہ ہے کہ یہ نوجوان ’’شام کے اندر سے فرانس پر حملوں کے لیے اکسائے جانے پر‘‘ اسی طرح کی کسی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔ چند روز قبل ایک ایسا ہی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا جس میں مبینہ طور پر ایک کار کو گیس سلنڈروں کے ذریعے پیرس کے مرکزی حصے میں دھماکے سے اڑایا جانا تھا۔ تفتیش کار شدت پسند گروپ داعش کے رُکن فرانسیسی شہری راشد قاسم کی طرف سے اپنے گروپ کے خیر خواہوں کو فرانس پر حملوں کے لیے اکسانے کی رپورٹوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مانویل والس نے کہا کہ سارے فرانس میں ایسے پندرہ ہزار افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو بنیاد پرستانہ رجحان رکھتے ہیں

مانویل والس نے کہا کہ سارے فرانس میں ایسے پندرہ ہزار افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو بنیاد پرستانہ رجحان رکھتے ہیں

قاسم داعش کی طرف سے جاری کی جانے والی پراپیگنڈا ویڈیوز میں اکثر نظر آتا ہے اور لوگوں کو فرانسیسی اہداف کو نشانہ بنانے کی تلقین کرتا ہے۔ اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ روز گرفتار کیا جانے والا 15 سالہ نوجوان ٹیلی گرام نامی ایپ کے ذریعے راشد قاسم کے ساتھ رابطے میں تھا۔ اس نوجوان کے ان دو ٹین ایجر شدت پسندوں کے ساتھ بھی رابطے تھے جنہوں نے رواں برس جولائی میں نارمنڈی کے چرچ میں ایک پادری کو ہلاک کر دیا تھا۔

یہ گرفتاری ایسے وقت میں کی گئی جب وزیراعظم مانویل والس نے کہا کہ سارے فرانس میں ایسے پندرہ ہزار افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو بنیاد پرستانہ رجحان رکھتے ہیں۔ والس کے مطابق فرانس کو مزید دہشت گردنانہ حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔