1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حماس کیا ہے؟

اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے وجود میں آنے والی حماس تحریک کو امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

default

فلسطینی تحریک حماس، اسلامی دنیا میں سب سے بڑی مزاحمتی تحریک سمھجی جاتی ہے جبکہ امریکہ، یورپی یونین اور اسرائیل نے اس تحریک کو دہشت قرار دے رکھا ہے۔ سن انیس سو ستاسی کو غزہ اور مغربی اردن میں اسرائیل قبضے کو ختم کرنے کے لئے ابھرنے والی حماس نامی تحریک کی بنیاد شیخ احمد یاسین نے رکھی جو فلسطینی عوام کے نہ صرف روحانی پیشوا تھے بلکہ ایک رہنما کی طور پر بھی سانے آئے۔

حماس کے بنیادی مقاصد

اس تحریک کا قلیل المدتی مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کو فلسطینی علاقوں سے باہر نکالا جائے جس کے لئے وہ آئے روز اسرائیل پرحملے کرتےرہتے ہیں۔ جبکہ اس تحریک کے طویل المدتی مقصد میں فلسطین کو ایک اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر لانا ہے۔ واضح رہے کہ سن انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے ایک ریاست کے طور پر سامنے آنے کے بعد فلسطینی علاقوں کا وسیع تر حصہ اسرائیل کے پاس چلا گیا تھا تاہم حماس مزاحمتی تحریک اسرائیل کے وجود سے انکار کرتے ہوئے اس زمین پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لئےکوشاں ہے۔

Ahmed Yassin, geistlicher Führer der Hamas

"ہم نے اس راہ کا انتخاب کیا ہے جس کا اختتام فتح یا شہادت ہے ": شیخ یاسین ، حماس کے بانی

اس مقصد کے لئے حماس نے بالخصوص غزہ کی پٹی میں دو حصوں میں منقسم ہو کر کام کرنا شروع کیا ہے۔ ایک حصے کا کام تعمیری اور فلاحی نوعیت کا ہے جس میں تعلیمی ادارے، اسپتال اور مذہبی ادارے بنانا ہے تو دوسرا دھڑا جنگجووں پر مشتمل ہے۔ جیسے عز الدین اقسّام بریگیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس بریگیڈ کا نام شام میں پیدا ہونے والےعز الدین اقسام نامی سنی معلم کے نام پر رکھا گیا جو سن انیس سو کے اوائل میں فلسطینی علاقوں میں برطانوی راج کے خلاف مزاحمت شروع کرنے اولین ناموں میں آتے ہیں۔ انہوں نےسن انیس سو تیس میں باقاعدہ طور پر ایک عسکری دھڑے کی بنیاد رکھی ۔

الفتح اور حماس کے مابین کشیدگی

سن دو ہزار چار میں فلسطینی صدر یاسرعرفات کے انتقال کے بعد جب محمود عباس نے الفتح کی قیادت سنبھالی تو حماس اورالفتح میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہوئے۔ حماس سیاسی دھڑے نے سن دو ہزار پانچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی اور بعد ازاں سن دو ہزار چھ میں منعقد ہونے والے فلسطینی قانون ساز اسمبلی PLC کے انتخابات میں بھی واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان انتخابات میں غزہ ، مغربی اردن اور مغربی یروشلم کے فلسطنیوں نے ووٹ ڈالے۔ اور حتمی نتیجے کے مطابق حماس نے 74 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ حکمران الفتح کو صرف 45 نشستیں حاصل ہو سکیں۔

غزہ اور مغربی اردن کی تقسیم

جب حماس نے اسماعیل ہانیہ کلی قیادت میں نئی حکومت سازی کی تو مغربی دنیا کو خوف ہوا کہ یہ مبینہ دہشت گرد تنظیم کہیں اسرائیل کی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت نہ ہو اس لئے امریکہ، یورپی یونین اور کئی یورپی ممالک نے فلسطینوں کی امداد بند کر دی اور تین شرائط عائد کیں کہ حماس اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرے، حماس اُن معاہدوں پرعمل کرے جو الفتح کے ساتھ کئے گئے تھے اور یہ کہ حماس خطے میں پر تشدد کارروائیوں کا خاتمہ کرے۔ اسی دوران سن دو ہزار چھ میں فلسطینی علاقوں میں حماس اورالفتح کے مابین خانہ جنگی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں غزہ میں حماس نے قبضہ کر لیا اور مغربی اردن میں الفتح کی حکومت قائم رہی۔

MIDEAST LEBANON DEMONSTRATION Libanon Hamas Selbstmordattentäter p178

حماس خود کش حملہ آوروں کا گروہ

اسرائیل کا راکٹ حملے روکنے کے لئے غزہ پر فضائی اور زمینی حملہ

اسی دوران حماس نےغزہ میں قوت جمع کی اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اسرائیل پرمسلسل راکٹ حملے شروع کئے۔ اسرائیل اور حماس کے مابین گزشتہ سال جون میں چھ ماہ کے لئے فائر بندی کے معاہدہ ہوا تاہم دسمبر میں اس معاہدے کے اختتام پر حماس نے اسرائیل پر دوبارہ راکٹ حملے شروع کئے اور پھر ستائس دسمبر کو اسرائیل نے ان راکٹ حملوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئےغزہ مین حماس جنگجووں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی شروع کی جو تین جنوری سن دو ہزار نو کو زمینی کارروائی میں تبدیل ہو گئی۔