1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حماس کا مشروط فائر بندی کا اعلان

حماس نے تصدیق کی کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے اور مصر کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات میں تعاون کرے گا۔

default

شام میں موجود حماس کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حماس جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔

عسکری تنظیم حماس کے جلا وطن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حماس اور اس کی حامی تنظیمیں فی الوقت جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔ ایک بیان میں حماس نے کہا کہ وہ ایک ہفتے کے لیے جنگ بند کررہا ہے تاکہ اس عرصے میں اسرائیلی فوج غزہ سے باہر نکل جائے۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ مصر کی ثالثی میں مستقل قیام امن کی کوششوں میں تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہے تاکہ اس کے مطالبات پورے کیے جائیں اور غزہ کی ناکہ بندی ختم ہو۔ حماس کے نائب سربراہ موسی ابو مرزوق نے یہ بیان شام کے ٹی وی پر بھی پڑھ کر سنایا۔ اس سے قبل غزہ میں حماس کے ایک رہنما نے بھی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل سے ایک ہفتے کے اندر فوج غزہ پٹی سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل، اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نےباضابطہ طور پر تین ہفتوں سے جاری غزّہ جنگ کو یک طرفہ طور پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیں غزّہ میں غیر معینّہ مدّت تک قیام کریں گی۔

Israelische Soldaten am nördlichen Gazastreifen

اسرائیلی فوجیں غزّہ میں غیر معینّہ مدّت تک قیام کریں گی

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایک ٹی وی خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے غزّہ میں اپنے جنگی اہداف پورے کر لیے ہیں۔ یہ اعلان انہوں نے رات گئے اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حمّاس کو عسکری اور تنظیمی اعتبار سے ذبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار اب حمّاس کے روّیے اور طرزِ عمل پر ہے۔ حمّاس نے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

Palästinenser Israel Hamas Exilchef Chaled Maschaal in Damaskus

حمّاس رہنما خالد مشال۔ حمّاس نے جنگ جاری رکھنےکا اعلان کیا ہے۔


اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ان کا کہناہےکہ وہ اسرائیلی افواج کا غزّہ سے فوری انخلاء دیکھنا چاہتے ہیں۔ بان کی مون نے حمّاس پر بھی زور دیا کہ وہ جنگ بندی کو ممکن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ بان کی مون نے غزّہ میں امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


اسرائیل اور حمّاس کے درمیان غزّہ میں تین ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں کم از کم بارہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Miliräroperation im Gaza

ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جنگ کے دوران ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں سفید فاسفورس شامل تھا

انسانی حقوں کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جنگ کے دوران ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں سفید فاسفورس شامل تھا جو کہ انسانی جان کے لیے سخت مضر ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ اس نوعیت کا اسلحہ کبھی بھی گنجان آباد شہری علاقوں میں استعمال نہیں کیا جاتا اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ وہ غزّہ میں شہری ہلاکتوںسے بچنے کی پوری کوشش کررہا ہے، بے بنیاد ہے۔