1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حماس مصنوعی ڈھانچہ نہیں، امن مذاکرات کی فریق ہے: روس

روس نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کا اہم فریق قرار دینے سے متعلق صدر میدویدیف کے بیان کا دفاع کیا ہے، جس کی اسرائیل نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

default

سفارتی کشیدگی کی یہ صورتحال روسی صدر اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کی حالیہ ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

روسی صدر خالد مشعل سے منگل کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ملے تھے۔ اس سے قبل انقرہ میں ترک رہنماؤں سے ملاقات کے بعد روسی صدر نے کہا تھا کہ منقسم فلسطینی انتظامیہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ حل نہیں کرسکتی، اس تنازعے کے کسی بھی فریق کو مذاکراتی عمل سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔

Khaled Meshaal Amr Moussa Kairo

خالد مشعل

ترک صدر عبداللہ گل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، کسی بھی حل تک پہنچے کے لئے ان کا اتحاد ضروری ہے۔

جمعرات کو ماسکو میں روسی دفتر خارجہ کے ترجمان Andrei Nesterenko نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کوئی مصنوعی ڈھانچہ نہیں، بلکہ یہ فلسطینیوں کی بڑی تعداد کی حمایت رکھنے والے تحریک ہے۔

روسی دفتر خارجہ کے ترجمان کے بقول صدر میدویدیف اور خالد مشعل کی ملاقات میں فلسطینی دھڑوں کا اتحاد مرکزی نکتہ تھا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے صدر میدویدیف اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ کی ملاقات کے بابت فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔

ادھر اسرائیل نے روسی صدر کے بیان پر فوری اور بھرپور مذمتی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی دفتر خارجہ سے جاری بیان میں خالد مشعل کو چیچین باغی شامل بسایوف سے تشبیہ دی گئی ہے، جو 2006ء میں روسی فوج کی کارروائی میں مارا جاچکا ہے۔ روسی صدر کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ہمیشہ چیچن باغیوں کے خلاف کارروائی میں روس کی حمایت کی تھی اور حماس کے خلاف اسے روس سے ایسے ہی روئے کی امید تھی۔

Deutschland Israel Präsident Schimon Peres Rede im Bundestag in Berlin

اسرائیلی صدر شمعون پیریز

اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے دمشق میں روسی صدر کی شام کے صدر بشارالاسد سے ملاقات سے قبل انہیں ٹیلی فون کرکے ایک پیغام دیا۔ پیریز کے دفتر کے مطابق روسی صدر سے کہا گیا کہ وہ  صدر بشارالاسد پر واضح کردیں کہ اسرائیل شام کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی شمالی سرحد پر محاذ آرائی چاہتا ہے۔ 

یاد رہے کہ روس ’’مڈل ایسٹ کوارٹیٹ‘‘ کا واحد ایسا رکن ہے، جو حماس سے فوری مصالحت کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔ ’’کوارٹیٹ‘‘ کے دیگر تین ارکان یعنی امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی البتہ شرط ہے کہ حماس پہلے دہشت گردی ترک کرکے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے۔ روسی صدر کے حالیہ دورہء شام کے دوران دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے اشارے دئے جارہے ہیں، جو سابقہ سوویت دور سے قائم ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM