1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حماس اور جندانصار اللہ کے درمیان لڑائی، 16افراد ہلاک

غزہ پٹی میں حماس اور شدت پسند گروپ جند انصار اللہ کے ارکان کے مابین جھڑپوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ گروپ غزہ میں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتا ہے۔

default

اس گروپ سے وابستہ متعدد افراد مصر کی سرحد کے ساتھ واقع شہر رفاہ میں ایک مسجد میں جمع ہو گئے جہاں ان کے رہنما نے غزہ کو اسلامی ریاست قرار دیے دیا۔ جس کے بعد حماس کی سیکیورٹی فورسز نے مسجد کا محاصرہ کر لیا اور دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں حماس پولیس کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس کے سیکیورٹی اہلکاروں نے جند انصار کے مرکز اور مسجد کا گھیراؤ کیا۔ اس گروپ کا رہنما عبدالطیف موسیٰ ہے اور رفاہ کی اس مسجد میں اس کے کئی حامی موجود تھے۔ انہوں نے جمعہ کی نماز سے قبل غزہ میں اسلامی قوانین کے تحت حاکمیت کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا آغاز رفاہ سے ہوگا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق عبدالطیف نے چار نقاب پوش مسلح محافظوں کے ساتھ غزہ میں اسلامی قوانین کا اعلان کیا۔ روئٹرز کے مطابق محافظوں میں سے ایک مخصوص بیلٹ باندھے ہوئے تھا جو غالبا دھماکہ خیز مواد سے بھری تھی۔ ایسی بیلٹ خودکُش دھماکوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

Hamas Ismail Hanija in Gaza

حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہانیہ

مسجد میں عبدالطیف موسیٰ کے سینکڑوں حامی موجود تھے جنہوں نے اس موقع پر نعرے بازی کی۔ اس گروپ کو القاعدہ سے منسلک کیا جاتا ہے۔ تاہم حماس کے سربراہ اسمعٰیل ہانیہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی غیرفلسطینی مزاحمت کار موجود نہیں تھا۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان کے شدت پسند غزہ میں آ بسے ہیں۔ اسمعیٰل ہانیہ نے اس اسرائیلی بیان کو ایک پروپیگنڈا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل دُنیا کو حماس کے خلاف بھڑکانا چاہتا ہے۔

حماس حکام نے غزہ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے عبدالطیف موسیٰ کی جمعہ کی تقریر کو 'غلط خیالات' سے تعبیر کیا ہے۔ حماس کی وزارت داخلہ نے کہا کہ عبدالطیف موسیٰ ایک 'خبطی' ہے۔

جندانصاراللہ نے غزہ میں اپنی موجودگی تقریبا تین ماہ قبل ظاہر کی جب اسرائیلی فوجی اڈے پر حملے میں اس کے تین افراد ہلاک ہوئے۔

حماس خود کو ایک اعتدال پسند جماعت قرار دیتی ہے۔ آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس القاعدہ نیٹ ورک کے عالمی مذہبی مقاصد پر فلسطینی قوم پرستی کو ترجیح دیتی ہے۔

جند انصار اور بعض دیگر شدت پسند گروہ غزہ میں سخت اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے اورگزشتہ سات ماہ سے اسرائیل کے ساتھ جاری فائربندی کے معاہدے پر حماس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان