1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

حماس اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری

حماس تنظیم کے مسلح ونگ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری رہیں، جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

default

اسرائیلی حکام کے مطابق جمعرات کے بعد سے اب تک غزہ پٹی سے نوے راکٹ فائر کیے گئے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق راکٹ حملوں سے زخمی ہونے والی ایک خاتون کی حالت تشویش ناک ہے۔  دوسری جانب اسرائیل کے تین روزہ فضائی حملوں میں اب تک پندرہ فلسطینی ہلاک جبکہ چالیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کےمطابق یہ فضائی حملے جمعرات کے روز مصری سرحد کے قریب آٹھ اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری حماس کے مسلح ونگ ’’دی پاپولر ریسسٹنس کمیٹی‘‘ پر عائد کی ہے۔

 فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کے زیر انتظام علاقے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے رکوانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ اسرائیل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ فضائی حملوں میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی دو سرنگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’’اسرائیلی ٹیلی وژن چینل 10 کے مطابق ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے تازہ فضائی حملوں کی اجازت کے لیے کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ موجودہ صورتحال پر بات چیت کے لیے آج عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا ہے، جبکہ عالمی رہنماؤں نے بھی اس تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

NO FLASH Raketen aus dem Gazastreifen treffen Israel in Ashdod

اسرائیلی حکام کےمطابق یہ فضائی حملے جمعرات کے روز مصری سرحد کے قریب آٹھ اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے جا رہے ہیں

 یورپی یونین کے علاوہ امریکہ، روس اور اقوام متحدہ نے فریقین کو تحمل سے کام لینے کا کہا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن اسی سلسلے میں آئندہ چند روز میں اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کریں گی۔  دو روز قبل اسرائیلی بمباری کے بعد حماس نے دو برسوں سے جاری جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز  اردن کے سینکڑوں شہریوں نے غزہ پر بمباری کے خلاف مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کر دیا جائے۔ مظاہرین نے اردن، مصر اور فلسطین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے تاہم مظاہرین کو اسرائیلی سفارت خانے کے قریب جانے سے روک دیا گیا۔

رپورٹ : امتیاز احمد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM