1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب، چوبیس گھنٹوں میں دس ہزار افراد بے گھر

حلب کے مختلف مشرقی علاقوں سے چوبیس گھنٹوں کے دوران کم ازکم دس ہزار افراد فرار ہو چکے ہیں۔ شامی فورسز باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حلب کے نوّے فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حکومتی فورسز کے کنٹرول والے حلب کے اضلاع سے کم ازکم دس ہزار افراد فرار ہو گئے ہیں۔ بارہ دسمبر بروز پیر آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ شامی صدر کی حامی فورسز نے حلب کے شیخ السعید نامی ضلع پر بھی باغیوں کو پسپا کر دیا ہے۔ یوں حلب کا نوّے فیصد علاقہ حکومت کے زیر انتظام آ چکا ہے۔

شامی جنگ کو ختم کیا جائے، ’مایوس‘ مغربی طاقتوں کی اپیل

جنرل اسمبلی کی قرارداد کے بعد شام میں جنگ میں مزید شدت

آٹھ ہزار سے زائد شامی حلب سے نکل گئے ہیں، روس

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ اس تازہ عسکری کارروائی کی وجہ سے شمالی حلب کے کئی علاقے ویران ہو چکے ہیں۔ شام کے دوسرے سب سے بڑے شہر حلب میں سن دو ہزار بارہ سے حکومتی فورسز اور باغیوں کے مابین شدید لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم نومبر کے وسط سے شامی فورسز اور اس کی حامی ملیشیا گروہوں نے حلب کی مکمل بازیابی کی خاطر ایک بڑا عسکری آپریشن شروع کیا تھا، جو اب تک انتہائی کامیاب ثابت ہوا ہے۔ اس دوران شامی فورسز نے روسی فضائیہ کے تعاون سے کئی محاذوں پر باغیوں کو شکست دے دی ہے۔

روئٹرز نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دمشق فوج کی بمباری انتہائی شدید ہو چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ رات ’بمباری کا سلسلہ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں تھما‘۔

سفارتی ذرائع نے روئٹرز نے بتایا ہے کہ روس اور امریکا نے ایک منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت شورش زدہ حلب سے شہریوں کے انخلاء کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم ماسکو حکومت نے ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ اس تناظر میں کسی ڈیل کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

حلب کو ’مکمل تباہی‘ سے بچانے کی کوشش

اتوار کے دن روسی اورامریکی وزرائے خارجہ کی ایک اہم ملاقات میں شام میں قیام امن پر بات چیت کی گئی اورایک مجوزہ ڈیل کو زیر بحث لایا گیا۔ ذرائع کے مطابق ماسکو اور واشنگٹن اس ڈیل پر رضا مند ہیں لیکن حلب کے باغیوں نے ابھی اس حوالے سے اپنا مؤقف بیان کرنا ہے۔ روس کے مطابق جب تک شامی باغی اس ڈیل کے حوالے سے اپنا ردعمل ظاہر نہیں کرتے، جنگ بندی نہیں ہو گی۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے شام اسٹیفان ڈے مستورا نے بھی ابھی تک اس ڈیل کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ جنیوا میں جاری مذاکراتی عمل میں شریک مستورا نے کہا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں مشاروت کا سلسلہ جاری ہے۔ روسی اور امریکی سفارتکار بھی جنیوا میں شامی خانہ جنگی کے حل کی کوششوں کے سلسلے میں ملاقات کر رہے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic