1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب پر حملے جاری، روس پر ’جنگی جرائم‘ کا الزام

شامی شہر حلب میں ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ جنگی طیاروں نے ایک مرتبہ پر اس شہر پر شدید بمباری کی ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ میں مغربی طاقتوں نے روس پر ’جنگی جرائم‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

پیر کے روز جنگی طیاروں نے شامی شہر حلب کے ان حصوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا ہے، جو باغیوں کے زیر قبضہ ہیں۔ اس بمباری سے چند گھنٹے پہلے ہی نیویار ک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ماسکو اور دمشق حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران امریکی سفیر سمنتھا پاور کا روس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ شام میں ’’بربریت‘‘ سے کام لے رہا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ اور فرانس کے سفیروں نے اس سے بھی سخت تنقید کی ہے۔ فرانس کے سفیر فرینکوئس ڈی لیڑے کا کہنا تھا، ’’حلب میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔‘‘

اسی طرح برطانوی سفیر کا کہنا تھا کہ رہائشی علاقوں میں جدید ترین ہتھیاروں سے بمباری کرتے ہوئے ایک ’نئی جہنم‘ بنا دی گئی ہے۔ میتھیو رے کرافٹ کا کہنا تھا، ’’اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ روس اس شامی حکومت کا ساتھی ہے، جو جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔‘‘

ماسکو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان ممالک کو جوابی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’برطانیہ اور امریکا کے نمائندوں کی بیان بازی ناقابل قبول ہے اور اس سے ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘‘

حلب میں آج پیر کے روز کم از کم بارہ حملے کیے گئے ہیں۔

سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی جبکہ دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ حلب میں گزشتہ جمعرات سے شامی اور روسی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 128 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر تعداد عام شہریوں کی تھی۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بیس بچے اور نو خواتین بھی شامل ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس علاقے میں اشیائے خورد و نوش کی اس قدر قلت پیدا ہو چکی ہے کہ روٹی کے ایک حصہ پانچ سو شامی پاؤنڈز میں مل رہا ہے۔