1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب پر حملہ اور تازہ روسی بمباری، جنیوا مذاکرات کے لیے دھچکا

اہم شامی اپوزیشن گروہ کے سربراہ ریاض فرید حجاب امن مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں لیکن دوسری طرف روسی جیٹ طیارے شام میں ’جہادیوں‘ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Syrien Allepo Kämpfer

دمشق فوج نے روسی جیٹ طیاروں کی مدد سے حلب میں باغیوں کی ایک اہم سپلائی لائن کاٹ دی ہے

شامی اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ جب تک شامی فورسز باغیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں اور روسی جیٹ طیارے شام میں بمباری کا سلسلہ نہیں روکتے تب تک امن مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

DW.COM

روسی جنگی طیاروں کی کارروائیوں کے علاوہ بدھ کے دن شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے حلب میں باغیوں کے خلاف ایک تازہ کارروائی شروع کر دی ہے۔ دمشق فوج نے روسی جیٹ طیاروں کی مدد سے حلب میں باغیوں کی ایک اہم سپلائی لائن کاٹ دی ہے۔ ناقدین نے اس عسکری پیشرفت کو شامی امن مذاکرات کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

اسی دوران اہم شامی اپوزیشن گروہ کے رہنما ریاض فرید حجاب تین فروری بروز بدھ جنیوا پہنچ گئے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان کی آمد کی وجہ سے امن مذاکرات کو بچانے میں اہم کامیابی مل سکتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ دمشق حکومت کے وفد کا کہنا ہے کہ یہ مذاکراتی عمل شدید بد انتظامی کا شکار ہے اور اسی لیے باقاعدہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے سعودی نواز شامی اپوزیشن اتحاد ’اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی‘ میں شامل کچھ ارکان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شام میں جنگجوؤں کے خلاف روسی فضائی کارروائی کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

سرگئی لاوروف نے یہ بھی کہا کہ ترکی کے راستے جہادیوں کو اسلحے کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ روسی میڈیا نے لاوروف کے حوالے سے بتایا ہے، ’’روس شامی میں فعال داعش اور النصرہ فرںٹ کے خلاف جاری کارروائی اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک دہشت گردوں کو حقیقی طور پر شکست نہیں دے دی جاتی۔‘‘

Syrischer Politiker Riad Hidschab

اہم شامی اپوزیشن گروہ کے سربراہ ریاض فرید حجاب امن مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں

شامی اپوزیشن کا اصرار ہے کہ روس اپنی کارروائی میں اعتدال پسند باغیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، جس کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ’اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی‘ کے مطابق روسی کارروائی کی وجہ سے قیام امن ممکن نہیں ہو سکے گا، اس لیے فائر بندی کو حتمی شکل دیتے ہوئے سیاسی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب اسٹیفن ڈے مستورا نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنیوا میں جاری امن مذاکرات کا سلسلہ ناکام ہوتا ہے تو شامی خانہ جنگی کے خاتمے کی آخری امید بھی دم توڑ سکتی ہے۔