1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب پر بمباری شروع کرنے کے لیے وقت مناسب نہیں، پوٹن

شام کے شہر حلب میں محصور باغیوں نے مشترکہ قوت کے ساتھ حکومتی فوج پر جوابی حملہ کیا ہے۔ باغیوں کی کوشش ہے کہ ایک ماہ سے جاری شامی فوج کےمحاصرے کو توڑ دیا جائے۔

روسی جنگی طیاروں کے حملوں کو شروع کرنے کا روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر سے شامی شہر حلب پر کسی روسی جنگی طیارے نے بمباری نہیں کی ہے۔ شام میں روسی فضائی حملے شروع کرنے یا بند کرنے کا مکمل اختیار روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ہاتھ میں ہے۔ حلب میں باغیوں کے تازہ حملے کے بعد روسی فوجی حکام نے صدر سے اجازت طلب کی ہے کہ آیا باغیوں پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے۔

ماسکو حکومت کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ صدر پوٹن کا خیال ہے کہ حلب پر دوبارہ فضائی حملے شروع کرنے کے لیے وقت نامناسب ہے۔ پیسکوف کے مطابق صدر کا خیال ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت دیے گئے وقفے میں تسلسل وقت کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر حلب پر روسی فضائی حملوں کی وجہ سے ماسکو حکومت کو شدید تنقید اور مذمت کا سامنا تھا۔ اسی باعث کل جمعے کے روز روس انسانی حقوق کونسل کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

Syrien Aleppo Offensive der Rebellen (Getty Images/AFP/O. Haj Kadour)

حلب کے محصور باغیو کا ایک جنگجو ہوم میڈ بم اٹھائے ہوئے

 تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس صورت حال سے بشار الاسد کی فوج کو محدود کامیابی تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن وہ پوری طرح فتح مند نہیں ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق اسد حکومت روسی مدد کے ساتھ ہی پیشقدمی کر سکتی ہے اور ان کے بغیر حکومتی فوج کا مورال ایک فاتح فوج کا نہیں ہو سکتا۔

حلب کے محصور باغیوں نے حکومتی فوج کی جانب سے تقریباً ایک مہینے سے جاری محاصرے کو توڑنے کے لیے حملہ شروع کر دیا ہے۔ یہ حملہ کل جمعہ کے روز کیا گیا۔ صدر بشار الاسد کی فوج کو باغیوں کی جانب سے شدید شیلنگ، لڑائی اور کار بم حملوں کا سامنا ہے۔ اِس تازہ لڑائی میں حکومت فوج اور اتحادی باغیوں کے کم از کم اٹھارہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

حلب شہر کے مشرقی حصے پر باغی قابض ہیں تو مغربی سمت کا علاقہ اسد حکومت کی فوج کے قبضے میں ہے۔ جمعہ اٹھائیس اکتوبر کے حملے کے حوالے سے ایک باغی گروپ احرار الشام کے ترجمان ابویوسف مہاجر نے بتایا کہ یہ حملہ محاصرے کو ختم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے اور توقع ہے کہ اس حملے کی تاب اسد حکومت کی فوج نہیں لا سکے گی اور وہ مغربی حلب سے بھی پسپا ہو جائے گی۔ باغیوں کو امید ہے کہ حملے میں کامیابی کی صورت میں محصور شہریوں کو راحت ملے سکتی ہے۔