حلب میں ’مظالم کی انتہا‘، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب میں ’مظالم کی انتہا‘، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان رپورٹوں کے بعد کہ مشرقی حلب میں شامی فوج اور اُس کے حلیفوں نے درجنوں افراد کو قتل کر دیا ہے، ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

Syrien Gefechte in Aleppo (Getty Images/AFP)

مشرقی حلب کے علاقوں میں موجود شہری وہاں پر شامی فوج کی پیشقدمی کے بعد شہر کے جنوب مشرقی علاقوں کی طرف جاتے ہوئے، جہاں ابھی بھی باغیوں کا کنٹرول ہے

بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ  کے سیکرٹری جنرل سلامتی کونسل کو محصور شامی شہر حلب کی تازہ صورتِ حال  سے آگاہ کریں گے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق اقوام متحدہ کو اس شامی شہر میں شہریوں کے خلاف مظالم کے حوالے سے تشویشناک خبریں مل رہی ہیں۔

یہ اجلاس فرانس اور برطانیہ کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر فرانسوا دیلاترے نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے اس اجلاس میں ’ہماری آنکھوں کے سامنے جنم لینے والے اکیس ویں صدی کے بد ترین انسانی المیے‘ کے حوالے سے مناسب اقدامات پر تبادلہٴ خیال کیا جائے گا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک ایغو نے بھی منگل کے روز ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ مشرقی حلب میں جو مظالم روا رکھے گئے ہیں، اُن پر بحث کے لیے سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلایا جائے۔ اس سے پہلے اپنی ایک ٹیلی وژن گفتگو میں اُنہوں نے کہا کہ مشرقی حلب میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جلد از جلد تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ مجرموں کا پتہ چلایا جا سکے۔

Syrien Frau mit Kindern nachdem Regierrungstruppen Gebiete in Aleppo erobert haben (Getty Images/AFP/Stringer)

حلب میں شہری جھڑپوں کی زَد میں آنے سے بچنے کے لیے مسلسل ایک سے دوسرے علاقے میں منتقل ہو رہے ہیں

اقوام متحدہ نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ اُسے مشرقی حلب میں حکومتی فوج اور اُس کے حلیف جنگجوؤں کی جانب سے کم از کم بیاسی شہریوں کو قتل کیے جانے کی خبریں ملی ہیں۔ مشرقی حلب کے شہریوں اور اپوزیشن کارکنوں نے بتایا ہے کہ پیر کو کئی علاقوں پر قبضے کے بعد شامی فوج نے سڑکوں پر باغیوں کو دیکھتے ہی گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ان الزامات کی تصدیق بہرحال ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اُس نے مشرقی حلب کے جتنے بھی افراد سے رابطہ کیا ہے، اُن میں سے کسی نے بھی یہ ہلاکتیں ہوتے نہیں دیکھیں۔ شامی فوج نے بھی ان الزامات کو یکسر رَد کرتے ہوئے ہے کہ اس طرح کے الزامات بین الاقوامی برادری کی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک ’مایوس کُن کوشش‘ ہیں۔

Syrien Gefechte in Aleppo (Getty Images/AFP)

شامی فوج نے کہا ہے کہ اُسے منگل یا بدھ کے روز پورے حلب پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا

دریں اثناء شامی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ’مشرقی حلب‘ پر مکمل کنٹرول کا اعلان کر سکتی ہے۔ فوج کے مطابق مشرقی حلب کے چند ایک بچے کھُچے علاقوں میں چھُپے باغیوں کے خلاف فوج کی پیشقدمی جاری ہے اور یہ اضلاع منگل یا پھر بُدھ کے روز حکومت کے کنٹرول میں آ سکتے ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ مشرقی حلب کے باقی ماندہ علاقوں کا کنٹرول ہاتھ میں آتے ہیں وہاں فوج کا آپریشن اختتام کو پہنچ جائے گا۔ اسی دوران باغیوں کے ایک اہم دھڑے کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ شامی فوج اور باغیوں کے درمیان ایک ڈِیل پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جس کے تحت شہریوں اور چند ایک جنگجوؤں کو مشرقی حلب کے گھیرے میں آئے ہوئے علاقے کو چھوڑنے کی اجازت مل جائے گی۔

ملتے جلتے مندرجات