1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب میں محصور ڈھائی لاکھ شامیوں کے لیے خوراک ختم ہو گئی

شام کے محاصرہ شدہ شہر حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے ڈھائی لاکھ شہریوں کے لیے خوراک ختم ہو گئی ہے اور انہیں فاقہ زدگی کا خطرہ ہے۔ یہ بات شام کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر امداد کے نگران اعلیٰ اہلکار نے بتائی۔

Syrien Lage in Aleppo (picture-alliance/AA/F. Aktas)

مشرقی حلب میں محصورین میں تقسیم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے پاس اب کوئی اشیائے خوارک نہیں ہیں

سوئٹزرلینڈ میں جنیوا اور لبنان کے دارالحکومت بیروت سے جمعہ گیارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق جنگ زدہ ملک شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں وہاں محصور ایک چوتھائی ملین شہریوں میں اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی بنیادوں پر جو اشیائے خوراک تقسیم کی جا رہی تھیں، ان کا آخری حصہ بھی کل جمعرات دس نومبر کو ان ضرورت مند محصورین میں تقسیم کر دیا گیا۔

عالمی ادارے کے سینیئر مشیر اور شام میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کے نگران مندوب ژان ایگیلینڈ (Jan Egeland) کا کہنا ہے، ’’حلب کا وہ علاقہ، جہاں باہر سے امدادی سامان کی ترسیل اس سال جولائی کے اوائل سے بند ہے، روسی فضائی طاقت کی مدد سے شامی حکومتی دستوں کے محاصرے میں ہے اور وہاں کی صورت حال حقیقی معنوں میں خوفناک اور تباہ کن ہے۔‘‘

ناروے کے اس سفارت کار کے مطابق کل جمعرات کو مشرقی حلب میں موجود باقی ماندہ امدادی اشیائے خوراک کی تقسیم سے بھی پہلے اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے بھی شامی تنازعے کے فریقین سے ایک بار پھر اپیل کی تھی کہ شہر کے اس حصے میں خوراک اور ادویات کی فراہمی کی اجازت دینے کے علاوہ امدادی کارکنوں کو بھی وہاں جانے دیا جائے۔

Schweiz Jan Egeland Syrien-Sonderbeauftragter UN (UN Photo/J.-M. Ferré)

اقوام متحدہ کے مندوب اور ناروے کے سفارت کار ژان ایگیلینڈ

اس کے علاوہ عالمی ادارے کی طرف سے شامی خانہ جنگی کے فریقوں سے یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ وہ حلب میں بہت زخمی یا بہت بیمار ان 300 کے قریب افراد کو بھی ان کے اہل خانہ کے ہمراہ وہاں سے نکلنے کی اجازت دیں، جنہیں مناسب طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

روسی نائب وزیر اعظم سیرگئی ریابکوف نے کل دس نومبر کے روز کہا تھا کہ روسی فضائیہ مشرقی حلب میں اپنے فضائی حملے ابھی تک اس لیے روکے ہوئے ہے کہ وہاں انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات پہنچائی جا سکیں۔

لیکن ان روسی حکومتی دعووں کے برعکس ژان ایگیلینڈ نے کہا ہے کہ مشرقی حلب میں ابھی تک شدید لڑائی جاری ہے جس کے باعث وہاں امدادی کارروائیوں کو جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی ایگیلینڈ نے یہ بھی کہا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے جنگی فریقین نے کئی ایسی شرائط بھی رکھی ہیں، جن کی وجہ سے عالمی ادارے کی امدادی کوششیں مزید پیچیدگی اور مشکلات کا شکار ہو چکی ہیں۔

Syrien Armut in Aleppo (Getty Images/AFP/B. Al Halabi)

شام میں مشرقی حلب کے ڈھائی لاکھ محصورین کو اب فاقوں کا خطرہ ہے

ژان ایگیلینڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’جیسا ہم نے شام میں دیکھا ہے، ایسا ہم نے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں نہیں دیکھا کہ انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل اور تقسیم کو مختلف جنگی دھڑوں کی طرف سے اپنے اپنے فائدے کے لیے بڑی چالاکی سے اتنا زیادہ سیاسی رنگ دے دیا گیا ہو۔‘‘

اقوام متحدہ کے اس سینیئر مشیر نے شام میں حکومت مخالف باغیوں کی حمایت کرنے والے ملک امریکا اور دمشق حکومت کی سیاسی اور عسکری حمایت کرنے والے روس دونوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ واشنگٹن اور ماسکو انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں میں اس بحرانی تعطل کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

DW.COM