1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب میں شامی فورسز اور اتحادیوں کے شدید حملے

شامی فوج اور اُس کے اتحادیوں نے مل کر حلب کے جنوبی علاقے میں ایک غیر معمولی آپریشن کیا ہے۔

ان تازہ ترین حملوں کو فروری میں حلب میں جنگ بندی کے ایک معاہدے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا حکومتی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

شامی فوج اور اُس کے اتحادیوں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ، وہ حلب کے جنوبی علاقے میں مسلح گروپوں کو اپنے نشانے کا ہدف بنا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں’’بھاری فضائی حملوں‘‘ کی مدد لی گئی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ حملے باغیوں کی طرف سے فائربندی کی خلاف ورزی کے رد عمل میں کیے جا رہے ہیں اور یہ کہ،’’جب تک تمام عسکریت پسند ہتھیار نہیں ڈال دیتے تب تک یہ حملے جاری رہیں گے۔‘‘

جنوبی حلب میں گذشتہ منگل کو القائدہ سے قریبی تعلق رکھنے والے النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے شامی حکومتی فورسز کا ایک جنگی طیارہ گرانے اور اس کے پائلٹ کو اغوا کر لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

Syrien IS Al-Nusra Front Kämpfer

النصرہ فرنٹ کے جنگجو

النصرہ فرنٹ بشمول ’اسلامک اسٹیٹ‘ اُس فائر بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے جو امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ النصرہ فرنٹ نے گذشتہ ہفتے حلب کے ایک گاؤں العیس پر حملہ کر کے اُسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کارروائی میں درجنوں شامی اور اُن کے اتحادی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں لبنانی شیعہ عسکریت پسند تحریک حزب اللہ کے 11 اراکین بھی شامل تھے۔

طرفین ایک دوسرے پر اس فائربندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ شام کے مغربی علاقوں کی فرنٹ لائنز پر جھڑپوں میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی تھی تاہم حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ کبھی بھی مکمل طور پر نہیں رُکا۔

فروری کے ماہ میں شام کے لیے طے پانے والے ایک جنگ بندی معاہدے کی ثالثی امریکا اور روس نے کی تھی جس کا مقصد شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی عمل کو بروئے کار لانا تھا تاہم گذشتہ چند روز کے دوران حلب میں ایک بار پھر حکومتی فورسز اور اتحادیوں کی طرف سے باغیوں پر حملوں میں شدت سے حالات پھر سے کشیدہ ہو گئے ہیں۔

Syrien Gefecht in Aleppo

دو طرفہ جھڑپوں کے نتیجے میں حلب تباہ ہو چُکا ہے

اُدھر اقوام متحدہ کے ایما پر شامی حکومتی نمائندوں اور اپوزیشن کے مابین بالواسطہ مذاکرات کے انعقاد کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں کسی قسم کی کامیابی کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ صدر بشار الاسد کے حکومت میں رہنے کا ہے جس پر فریقین کسی صورت مصالحت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بشار الاسد کا مُستقبل وہ سوال ہے جس پر بُری طرح کی تقسیم اور اختلافات پائے جاتے ہیں۔

آئندہ پیر کو اس بارے میں یورپی شہر جینیوا میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہونا ہے۔

DW.COM