1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب میں سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حلب کے حکومتی کنٹرول والے علاقے میں داخل ہونے والے سینکڑوں شامی مرد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ مرد باغیوں کے علاقے سے فرار ہو کر شامی فوج کے کنٹرول والے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگران ادارے نے بتایا ہے کہ مشرقی حلب کے چند علاقوں میں مسلح باغی عام شہریوں کو محفوظ علاقوں کی جانب روانہ ہونے سے روک رہے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہ بھی کہا گیا کہ باغیوں کے علاقوں سے پناہ حاصل کرنے والے سینکڑوں شامی مرد حکومتی کنٹرول کے علاقوں میں داخل ضرور ہوئے لیکن اب اُن کا اتہ پتہ معلوم نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان نے یہ تفصیلات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں میڈیا کے سامنے پیش کیں۔

بعض مبصر گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ شامی مرد اسد حکومت کی فوج کے توپ خانے کی گولہ باری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق اسد حکومت کی فوج اور مسلح باغی کھلے عام انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ ادارے نے کہا ہے کہ جو حقائق جمع کیے جا چکے ہیں، وہ انتہائی ہولناک اور پریشان کن ہیں کہ عام شامی شہریوں کو کیسے کیسے مظالم اور مصائب کا سامنا ہے۔

Syrien syrischer Soldat mit Flagge (picture-alliance/AP Photo/H. Ammar)

مشرقی حلب کے ستانوے فیصد علاقے پر شامی فوج قابض ہو چکی ہے

ترجمان کے مطابق لاپتہ ہونے والے شامی مردوں کی عمریں تیس اور پچاس برس کے درمیان ہیں اور اِن کے لاپتہ ہونے کے بارے میں تفصیلات اُن کے خاندانوں کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔ ان افراد کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ باغیوں کے علاقے سے بھاگ کر حکومتی کنٹرول کے علاقوں میں داخل ہونے والے افراد سے اُن کے رابطوں کو منقطع ہوئے ایک ہفتے سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق ماضی میں بھی شامی فوج  تشدد، زبردستی حراست میں رکھنے اور افراد کے لا پتہ ہونے کے واقعات میں ملوث رہی ہے۔

دوسری جانب شمالی شامی شہر حلب میں فائر بندی کے دوران شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق ابھی تک ساڑھے دس ہزار سے زائد افراد شہر سے نکل چکے ہیں۔ اس بیان میں مزید بتایا  گیا کہ شہر کے ترانوے فیصد حصے پر شامی دستوں کا قبضہ ہے جبکہ ملکی فوج نے باون بلاکس کو باغیوں سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ روس کی جانب سے گزشتہ روز ہی حلب میں فائر بندی کا اعلان  سامنے آیا تھا۔ اس تناظر میں شہریوں کو صرف ایک مخصوص راستے سے شہر سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔