1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب شہر کے قدیمی حصے پر شامی فوج  کا کنٹرول

شمالی شامی شہر حلب کے قدیمی حصے کا انتظام اب ملکی دستوں اور ان کے حامی جنگجوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ آج بدھ کے روز باغیوں کو اس علاقے سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

شدید لڑائی کی زَد میں آئے ہوئے شمالی شامی شہر حلب میں باغیوں کی مزاحمت مسلسل کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حکومتی دستوں نے اب حلب کے پورے قدیم حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ باغیوں کو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مشرقی حلب میں اپنے زیرِ قبضہ تقریباً دو تہائی علاقے سے محروم ہونا پڑا ہے۔ اَسّی ہزار شہری گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں ہیں۔ 

خبر رساں اداروں کے مطابق شامی فوج کی جانب سے حلب میں کارروائیوں کے ختم ہونے یا اس میں وقفے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ کیونکہ گزشتہ روز بھی باغیوں کے زیر انتظام حلب کے جنوب مشرقی علاقوں پر شدید بمباری جاری رہی۔ شامی صدر بشارالاسد کئی مہینوں سے حلب کے شہریوں کو شہر چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں۔ اسد کا کہنا ہے کہ باغی عام شہریوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اور انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

2011ء میں شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے حلب کے قدیمی حصے پر قبضے کو شامی فوج کی اب تک کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ 2012ء سے حلب کا قدیمی حصہ شامی دستوں اور باغیوں میں تقسیم تھا۔ اپنی تاریخی عمارات کی وجہ سے یہ پورا علاقہ عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور اب یہ تقریباً کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کل منگل کے روز فوج اور اُس کے حلیف جنگجوؤں نے شہر کے دفاعی لحاظ سے اہم علاقے الشار پر قبضہ کر لیا تھا۔ 

 اُدھر ماسکو میں وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ حلب ہی میں باغیوں کے ایک حملے کے نتیجے میں ایک روسی فوجی مُشیر ہلاک ہو گیا ہے۔ عالمی برادری حلب میں لڑائی رکوانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے منگل کے روز کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ امن عمل کو دوبارہ سے شروع کیا جائے گا۔ پیر کے روز ہی روس اور چین نے اپنے ویٹو کے ذریعے عالمی سلامتی کونسل میں وہ قرارداد منظور نہیں ہونے دی تھی، جس میں حلب میں سات روز کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔