1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حلب سے شہریوں کے انخلاء کی متضاد خبریں

شام اور اس کے اتحادی ملک روس نے دعویٰ کیا ہے کہ ’محفوظ راہداری‘ کا استعمال کرتے ہوئے درجنوں شہری اور باغی مشرقی حلب کے علاقوں سے نکل گئے ہیں۔ تاہم باغیوں نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

شامی فورسز نے باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی علاقوں کے گرد اپنا عسکری حصار تنگ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس شہر میں کم ازکم ڈھائی لاکھ انسان محصور ہیں، جنہیں خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی اشد ضرورت ہے۔

DW.COM

ان علاقوں میں انسانی بحرانی صورتحال کی وجہ سے شام اور روس نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ ان مقامات سے نکلنا چاہتے ہیں، انہیں ’محفوظ راستہ‘ فراہم کیا جائے گا۔

تیس جولائی بروز ہفتہ شامی ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ اس محفوظ رہداری کا استعمال کرتے ہوئے درجنوں افراد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے نکل گئے ہیں۔ ٹیلی وژن پر جاری کردہ فوٹیج میں خواتین اور بچوں کو فوجی نگرانی میں بسوں میں بیٹھ کر صلاح الدین کے علاقے سے نکلتے دکھایا گیا ہے۔

شامی میڈیا کے مطابق ان علاقوں سے نکلنے والے لوگوں کا فوج نے استقبال کیا اور انہیں بسوں کے ذریعے عارضی شیلٹر ہاؤسز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس محفوظ راستے کے باعث متعدد باغیوں نے بھی ہتھیار پھینکتے ہوئے خود کو فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ جو باغی تین مہینوں کے اندر اندر ہتھیار پھینک دیں گے انہیں عام معافی دے دی جائے گی۔

روسی وزارت دفاع نے بھی کہا ہے کہ 169 شہریوں کے حکومت کے زیر انتظام علاقوں تک پہنچنے کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسٹھ باغیوں نے اپنے ہتھیار پھینک دیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چار مختلف مقامات پر بنائے گئے یہ محفوظ راستے ابھی بھی کھلے ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ بیس افراد مشرقی علاقوں سے مغربی علاقوں کی طرف گئے ہیں لیکن ان میں کوئی باغی شامل نہیں ہے۔ باغی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شامی اور روسی حکومتیں ’جھوٹ‘ بول رہی ہیں کہ انہوں نے کوئی راہداری کھولی ہے یا سیز فائر پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان باغیوں کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ شامی فورسز باغی علاقوں میں شیلنگ اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

حلب کے مشرقی علاقوں میں انسانی بحران کی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے روس نے وہاں سے شہریوں کے انخلاء کو ممکن بنانے کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر اس پیشرفت میں روس کی کوئی ’چالاکی‘ نہیں ہے تو شام کے معاملے پر ماسکو حکومت سے تعاون کیا جا سکتا ہے۔

Syrien Humanitäre Katastrophe in Aleppo

جولائی سن دو ہزار بارہ سے ہی صوبہ حلب کے زیادہ تر مشرقی علاقوں میں باغیوں کا قبضہ تھا

Syrien Bombardierung Aleppo

حال ہی میں شامی فورسز نے مقامی ملیشیا گروہوں اور روسی فضائیہ کے ساتھ مل کر حلب کے کئی مقامات پر باغیوں کو پسپا کر دیا ہے۔

Syrien Bombardierung Aleppo

اقوام متحدہ کے مطابق اس شہر میں کم ازکم ڈھائی لاکھ انسان محصور ہیں، جنہیں خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی اشد ضرورت ہے

Syrien Angriffe Aleppo

ان علاقوں میں انسانی بحرانی صورتحال کی وجہ سے شام اور روس نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ ان مقامات سے نکلنا چاہتے ہیں، انہیں ’محفوظ راستہ‘ فراہم کیا جائے گا

Syrien Angriff von Assads Truppen in Mashad, Aleppo

شامی فورسز نے باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی علاقوں کے گرد اپنا عسکری حصار تنگ کر دیا ہے

Syrien Aleppo Rebellen

شامی صوبہ حلب اب کھنڈر کی شکل پیش کرتا ہے

Syrien Aleppo Zerstörung nach Luftangriff

حلب کے مشرقی علاقوں میں انسانی بحران کی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے روس نے وہاں سے شہریوں کے انخلاء کو ممکن بنانے کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا

امریکا کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر مغربی ممالک نے روس کی طرف سے اس اعلان کا محتاط انداز میں خیر مقدم کیا تھا۔ گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ کے مندوب برائے شام اسٹیفن ڈے مستورا نے کہا تھا کہ ان محفوظ راستوں کی نگرانی اقوام متحدہ کو بھی کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اڑتالیس گھنٹے کی سیز فائر بھی ہونا چاہیے تاکہ شہری بغیر کسی خوف کے وہاں سے نکل سکیں۔

جولائی سن دو ہزار بارہ سے ہی صوبہ حلب کے زیادہ تر مشرقی علاقوں میں باغیوں کا قبضہ تھا تاہم حال ہی میں شامی فورسز نے مقامی ملیشیا گروہوں اور روسی فضائیہ کے ساتھ مل کر باغیوں کو حلب کے کئی مقامات پر پسپا کر دیا ہے۔ شامی فورس اور باغیوں کے مابین شدید لڑائی کے بعد اسد کی حامی افواج نے اس صوبے کے شمالی علاقے بنی زید کو بھی باغیوں سے آزاد کرا لیا ہے۔