1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

حقیقی دنیا سے زیادہ پیچیدہ، خواب کی دنیا

خواب ہمیشہ سے نیند سے متعلق تحقیق کرنے والے محققین اور سائنسدانوں کے لئے دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ ایک دنیا تو وہ ہے جسے آپ آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں مگر ایک دنیا ایسی بھی ہے جو آپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی آپ کی منتظر ہوتی ہے

default

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گہری نیند میں خواب نہیں آتے

عالم بیداری یا شعوری زندگی کی اپنی مشکلات ہیں مگر عالم خواب اپنے اندر ایک اور پیچیدہ دنیا لئے ہوئے ہیں۔ سائنس دان اب تک واضح طور پر کسی ایسے حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ خواب اصل میں ہیں کیا اور ان کے حقیقی محرکات کیا ہوتے ہیں۔

تاہم سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے ضرور آئی ہے کہ خوابوں کا دورانیہ چند مائکرو سیکنڈز سے کچھ ثانیوں تک ہو سکتا ہے۔

Schläfer im Park

ایک پارک میں پرسکون ہوا میں سوئے ہوئے کچھ لوگ

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عالم شعور میں ذہن میں ریکارڈ ہونے والے واقعات جو لاشعور میں ذخیرہ ہوتے رہتے ہیں رات کو شعور کے کم فعال ہونے پر ایک رپورٹ کی صورت میں سامنے آ جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ خوابوں کا محرک آنکھوں کی پتلیوں کی بے ترتیب حرکت ہوتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ خواب جھماکوں یا fleshes کی صورت میں آتے ہیں۔

اس حوالے سے ڈوئچے ویلے نے تفصیلی گفتگو کی آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے شعبہ دماغی و نفسیاتی ہسپتال کے ڈاکٹر طیب عارفین سے۔

Ausländische Besucher schlafen auf der CeBIT

ماہرین کا خیال ہے کہ خوابوں کی صورت میں دماغ اپنے تخمینوں سے انسان کو کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہے

ڈاکٹر طیب عارفین کا کہنا تھا کہ خواب عمومی طور پر کچی نیند میں آتے ہیں یعنی خوابوں کا اصل وقت نیند کے آغاز یا اختتام کے قریب کے وقت ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے مریض جو برے خوابوں کے حوالے سے معالج کا رخ کرتے ہیں انہیں نیند آورادویات دی جاتی ہیں جو نیند کے آغاز اور اختتام کے دورانیہ جس میں نیند کچی ہوتی ہے اسے کم سے کم کرکے مریض کو پر سکون بنا دیتی ہیں۔

ڈاکٹر طیب عارفین کے مطابق اگر ایسی کوئی مشین یا سوفٹ وئیر بنا لیا جائے جس کے ذریعے خوابوں کو سکرین پر دیکھنا ممکن ہو تو اس سے ایسے مریضوں کے علاج میں آسانی کے ساتھ ساتھ بے شمار دیگر دماغی امراض کے علاج میں بھی مدد ملے گی جو اب تک ایک معمہ بنے ہوئے ہوئے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic