1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حقوق نسواں ہی نہیں ’حقوق مرداں‘ بھی

سربیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص دوسان سٹوئیکووِچ نے دعویٰ کیا ہےکہ وہ بلقان ریاستوں کا ایسا پہلا شہری ہے، جسے ’’اس کی بیوی بَلے سے پیٹتی ہے۔‘‘

default

سربیا میں بیویوں سے پٹنے والے شوہروں کے لئے خصوصی طور پر بنائے گئے پہلے حفاظتی گھر میں ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے سے بات چیت میں سٹوئیکووِچ نے بتایا کہ اپنی بیوی کی مار پیٹ سے بچنے کے لئے اس نے سن 2009ء میں مردوں کے تحفظ کے لئے بنائے گئے اس ادارے میں پناہ لی۔ بلقان ریاستوں میں مردوں کے حوالے سے عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ گھر پر رہ کر ’مفت کی روٹیاں‘ توڑتے ہیں اور ان کی بیویاں ملازمت کر کے گھر کا خرچ چلاتی ہیں۔ سارا دن گھر پر رہنے اور اپنی بیوی کے پیسوں پر گزارا کرنے والے مردوں کو بلقان میں ’’ماچو‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے AFP سے بات چیت کرتے ہوئے دوسان سٹوئیکووِچ نے بتایا کہ اس کی بیوی اور سوتیلی بیٹیاں اسے بیس بال کے بلے سے پیٹتی رہی ہیں۔ اس پٹائی اور اذیت رسانی کے حوالے سے سٹوئیکووِچ نے اپنی بیوی اور بیٹیوں کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔ مقدمے میں سٹوئیکووِچ کا یہ بھی موقف ہے کہ جب اچھی خاصی پٹائی کے بعد وہ گھر سے فرار ہو گیا اور اُس نے اِس خصوصی ادارے میں پناہ لے کر اپنی بیوی اور بیٹیوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تو اُس کی بیوی نے بھی جوابی دعویٰ دائر کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے یہ کارروائی اپنے ’’ذاتی دفاع‘‘ میں کی۔ مقدمے میں سٹوئیکووِچ کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی پٹائی اور دھونس کے ذریعے اس کی کل ملکیت (ایک مکان اور کتوں کی خوراک کا کاروبار) ہتھیانا چاہتی تھی۔

Flüchtingslager in Rogatica

بلقان میں مردوں کے تحفظ کے لئے ادارہ قائم کیا گیا ہے

سٹوئیکووِچ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں کوئی اُس کی بات پر یقین تک کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ سٹوئیکووِچ کو اُلٹا اپنی بیوی کو پیٹنے کے جرم میں دو ماہ قید کی سزا سنا دی گئی اور اُسے اپنے ذاتی مکان سے بھی دور رہنے کی ہدایات دی گئیں۔

اس کا موقف ہے کہ اس طرح اس کی بیوی نے اس کی تمام جائیداد اور کاروبار پر قبضہ کر لیا۔

بلقان میں مردوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی ایک وکیل ویریسا سیوانووِچ کے مطابق:’’ایسا صرف اس لئے ہوا کیونکہ عدالت یہی ماننے کو تیار نہیں تھی کہ مرد بھی عورتوں کے ظلم کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘‘

سربیا کے مرکزی شہر Cuprija کے سابق میئر دوسان تریفونووچ نے اسی حوالے سے ایک خصوصی ادارہ بھی قائم کیا ہے۔ اس ادارے کا مقصد ’عورتوں کے ظلم‘ کے شکار مردوں کو انصاف دلانا اور عوام میں یہ آگہی پیدا کرنا ہے کہ مرد بھی عورتوں کی زیادتی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM