1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حقانی گروپ کے عسکریت پسند ڈرون حملے میں ہلاک

افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں حقانی گرپ کے چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ رواں ماہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا حملہ ہے۔

default

جلال الدین حقانی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون طیاروں نے جنوبی وزیرستان میں ایک گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے چار میزائل فائر کیے۔ ایک پاکستانی ملٹری آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’یہ ایک امریکی ڈرون حملہ تھا۔ چار میزائل داغے گئے تھے۔ ہدف ایک گاڑی تھی۔ مرنے والوں کی تعداد چھ ہے۔‘

یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے، جب پاکستان کے حساس ادارے کے سربراہ احمد شجاع پاشا امریکہ کے دورے پر ہیں۔ قبل ازیں خبریں یہ تھیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکی انتظامیہ سے ڈرون حملے محدود کرنے کا کہا ہے۔

حقانی گروپ کو طالبان اور القاعدہ کا انتہائی وفادار گردانا جاتا ہے اوراس گروپ کو افغانستان میں امریکہ کے خلاف بد ترین حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ سن دو ہزار نو میں خوست میں امریکی بیس پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ پر عائد کی جاتی ہے۔ اس حملے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کو سی آئی اے کے خلاف بدترین حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

US Drone Predator Flash-Galerie

سن دو ہزار دس میں ڈرون حملے دو گنا کر دیے گئے تھے

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ حقانی گروپ کو درپردہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے۔ واشنگٹن حکومت کئی مرتبہ اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کر چکی ہے کہ اس گروپ کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے۔

سترہ مارچ کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد امریکی فوج کی طرف سے یہ پہلا حملہ تھا۔ مارچ میں ہونے والے حملے میں انتالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کسی ڈرون حملے کی مذمت جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے کی گئی تھی۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ذاتی طور پر سی آئی اے اہلکاروں میں کمی لانے کا حکم جاری کیا ہے

پاکستان نے بدھ کے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثر ڈالتے ہیں اور ان سے دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جبکہ بد اعتمادی کی فضا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ رواں ہفتے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں لکھا گیا تھا کہ اسلام آباد حکومت نے مجموعی طور 335 سی آئی اے اہلکاروں، کنٹریکٹرز اور امریکی اسپیشل فورسز کے ملازموں کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ذاتی طور پر سی آئی اے اہلکاروں میں کمی لانے کا حکم جاری کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستانی فوج کو پختہ یقین ہے کہ امریکہ کا اصل نشانہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہے اور وہ اسے ختم یا ناکارہ کرنا چاہتا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اوباما انتظامیہ سے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کی تعداد میں کمی لائی جائے اور اس کا دائرہ کار شمالی وزیرستان تک محدود کیا جائے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی طرف سے سن دو ہزار دس میں ڈرون حملے د گنے کر دیے گئے تھے۔ دو ہزار دس میں سو سے زائد حملے کیے گئے، جن میں 670 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سن 2009 میں پینتالیس ڈرون حملوں میں 420 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM