1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے، ہلیری کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک سمیت افغانستان کے شدت پسند گروپوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن معاہدے کا راستہ بند نہیں کیا ہے۔

ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن

امریکی حکام کی طرف سے حقانی نیٹ ورک پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف حملوں میں ملوث ہے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستانی حکومت پر بھی شدید دباؤ ہے کہ وہ افغان سرحد کے قریب اس نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ امریکی افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے گزشتہ ماہ اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر بھی الزامات عائد کیے تھے کہ اس کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ خفیہ رابطے ہیں، اور یہ کہ 13 ستمبر کو کابل میں امریکی سفارت خانے پر حقانی نیٹ ورک کے حملے میں آئی ایس آئی بھی ملوث تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس بیان کی توثیق نہیں کی گئی۔

مائیک مولن نے گزشتہ ماہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر بھی الزامات عائد کیے تھے کہ اس کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ خفیہ رابطے ہیں

مائیک مولن نے گزشتہ ماہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر بھی الزامات عائد کیے تھے کہ اس کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ خفیہ رابطے ہیں

امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے منگل 11 اکتوبر کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا: ’’ ہم جانتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر شدت پسند گروپ افغانستان کے اندر امریکیوں، افغانوں اور دیگر اتحادیوں کے لیے سخت خطرناک ہیں، تاہم ہم آگے بڑھنے کے کسی ممکنہ حل کی تلاش کا راستہ بند نہیں کر رہے۔‘‘

افغانستان میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اوباما انتظامیہ کی طرف سے افغانستان میں قیام امن کے لیے کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں اب حقانی نیٹ ورک کی شمولیت کے امکانات پر واشنگٹن میں تنقید کی جا رہی ہے۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں اب حقانی نیٹ ورک کی شمولیت کے امکانات پر واشنگٹن میں تنقید کی جا رہی ہے

افغانستان میں قیام امن کے لیے کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں اب حقانی نیٹ ورک کی شمولیت کے امکانات پر واشنگٹن میں تنقید کی جا رہی ہے

حقانی نیٹ ورک کو اب تک ایک دہشت گرد تنظیم قرار نہ دیے جانے پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو کانگریس کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی حکومت کی طرف سے ایک طرف حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر شدید دباؤ جاری ہے تو دوسری طرف میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کے تناظر میں حقانی نیٹ ورک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی ہے۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ان کوششوں کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس