1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، پاکستان پر امریکی دباؤ میں اضافہ

امریکی حکومت نے منگل کے روز پاکستان پر اس بارے میں دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا کہ اسلام آباد کو عسکریت پسندوں کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

default

امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ افغان دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے پر حالیہ خونریز حملے میں عسکریت پسندوں کا یہی نیٹ ورک ملوث تھا۔ واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ساتھ رابطے پائے جاتے ہیں اور اسلام آباد حکومت کو ان رابطوں کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

جے کارنی نامی اس ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کا حقانی نیٹ ورک نہ صرف کابل میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث رہا ہے بلکہ اس نے بین الاقوامی حفاظتی فوج آئی سیف پر مسلح حملوں کے علاوہ اور بھی بہت سی کارروائیاں کی ہیں۔

NO FLASH Afghanistan Kabul Anschlag Taliban NATO UN Botschaften Botschaftsviertel

دہشت گردی کے خلاف دس سالہ جنگ میں پاکستان امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔ لیکن اس سال مئی میں  پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوجی کمانڈوز کے یکطرفہ آپریشن کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے دوطرفہ تعلقات کافی کشیدگی کا شکار ہیں۔ پھر مسلسل تناؤ کے شکار ان حالات  میں امریکہ نے ابھی حال ہی میں یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اس مہینے کی تیرہ تاریخ کو کابل میں ہونے والے حملوں میں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی بھی ملوث تھا۔

کابل حملوں کے علاوہ واشنگٹن کا یہ الزام بھی ہے کہ گیارہ ستمبر کو وسطی افغانستان میں شدت پسندوں نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے  اڈے پر جو حملہ کیا تھا، اس میں بھی مبینہ طور پر آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ ان الزامات کے بعد سے واشنگٹن کا اسلام آباد سے مطالبہ ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے حقانی گروپ کے ساتھ اپنے وہ ’تمام رابطے ختم کرے جو ہیں۔‘

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پیر کے روز اپنا لندن کا ایک مجوزہ دورہ بھی اندرون ملک مصروفیات کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا۔ فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ جنرل کیانی نے القاعدہ سے قربت رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے اور وہ اس حوالے سے واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے جھکنے پر تیار نہیں ہیں

NO FLASH Afghanistan Kabul Anschlag Taliban NATO UN Botschaften Botschaftsviertel

۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان کچھاؤ کے اس ماحول سے متعلق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا واشنگٹن پاکستان کو دی جانے والی وسیع تر امداد کا بھی نئے سرے سے جائزہ لے رہا ہے۔ اس پر جے کارنی نے کہا کہ ظاہر ہے کہ امریکہ پاکستان کے لیے اپنی طرف سے امداد پر ہمیشہ غور کرتا رہتا ہے۔

اسی دوران پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اقوام متحدہ میں اپنے ایک خطاب میں کہا کہ گزشتہ ایک عشرے میں پاکستان میں دہشت گردی کے ہاتھوں تیس ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں ایک دوسرے پر زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس سال میں دہشت گردی کی وجہ سے اپنے ہاں جس قدر تباہی اور ہلاکتوں کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا ہے، اتنا دنیا کے بہت ہی کم ملکوں نے کیا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی


DW.COM