1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کے مبینہ روابط

عسکری نیٹ ورک حقانی کے بارے میں واشنگٹن حکومت کے خدشات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق کچھ ثبوت اور اہم معلومات بھی پاکستان کے حوالے کر دی ہیں۔

default

کمانڈر جلال الدین حقانی

آخر یہ حقانی نیٹ ورک ہے کیا؟

واشنگٹن حکام کو شبہ ہے کہ طالبان کے ہم خیال نیٹ ورک حقانی کے عسکریت پسندوں کے پاکستانی خفیہ ادارے کے ساتھ ’بہت ہی گہرے‘ تعلقات ہیں۔ امریکہ نے حقانی گروپ کے بارے میں کچھ اہم معلومات پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کو فراہم کی ہیں۔ ان میں گزشتہ ماہ افغانستان میں بگرام کے مقام پر نیٹو فوجیوں کے اہم فضائی ٹھکانے کو ہدف بنانے میں حقانی نیٹ ورک کے مبینہ کردار کی نشاندہی بھی شامل ہے۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی

طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے متعلق لندن سکول آف اکنامکس کی ایک حالیہ رپورٹ نے بھی کئی نئے تنازعات کو جنم دیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کرنا در اصل پاکستانی حکومت کی پالیسی ہے۔‘ لندن سکول آف اکنامکس کی اس رپورٹ میں دعویٰ بھی کیا گیا کہ پاکستانی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جینس یعنی ISI کے ایجنٹ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے انتہائی اندرونی حلقے میں شامل ہیں۔ اس سرکل کو ’’کوئٹہ شوریٰ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کا سربراہ کون ہے؟

جلال الدین حقانی حقانی گروپ کے چیف ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس عسکری نیٹ ورک کے روابط القاعدہ اور طالبان کے ساتھ ہیں۔ اس گروپ پر افغانستان میں انتہائی خطرناک قسم کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ ستر سالہ جلال الدین حقانی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت بہت علیل ہیں اور اس وجہ سے حقانی نیٹ ورک کی لیڈرشپ کی ذمہ داریاں ان کے بڑے بیٹے سراج الدین حقانی کو سونپی گئی ہیں۔

Pakistan Taliban Krieger betet in Bara Khyber

تحریک طالبان پاکستان کے ایک مقامی کمانڈر خیبر ایجنسی میں نماز ادا کرتے ہوئے

جلال الدین کی سرگرمیوں کی تشہیر سن 1980ء میں ہونا شروع ہوئی، جب وہ اور ان کے ساتھی امریکہ کی مرکزی انٹیلی جینس ایجنسی CIA اور سعودی عرب کی مدد سے افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف لڑ رہے تھے۔

حقانی در اصل پشتون ہیں اور ان کا تعلق افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا کے زادران قبیلے سے ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا اثر پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھی ہے۔ اس گروپ کا مقصد افغانستان کے پکتیا، پکتیکا اور خوست صوبوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ایسے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں کہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں نے ہی خودکش حملوں کو متعارف کیا ہے۔ افغانستان میں قائم بھارتی سفارت خانے کے علاوہ افغان صدر پر متعدد حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی اس نیٹ ورک کا نام لیا جاتا رہا ہے۔

امریکی حکام کو حقانی گروپ اور انٹر سروسز انٹیلی جینس کے مبینہ رابطوں اور تعلقات کے بارے میں اس لئے بھی خدشات ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ابھی تک پاکستان کے اندر کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM