1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

حضرت نوح کی کشتی کا حقیقی ڈھانچہ

گزشتہ تین سالوں سے ہالینڈ کے شہر ڈورڈریخٹ کے رہنے والے حیرانی سے ایک خاص پراجیکٹ کو دیکھ رہے ہیں۔ یوحان ہبرس ایک مقامی تاجر کی خواہش تھی کہ وہ حضرت نوح کی کشتی کا حقیقی ڈھانچہ بنائے۔

یوحان ہبرس ایک مقامی تاجر کی خواہش تھی کہ وہ حضرت نوح کی کشتی کا حقیقی ڈھانچہ بنائے۔

یوحان ہبرس ایک مقامی تاجر کی خواہش تھی کہ وہ حضرت نوح کی کشتی کا حقیقی ڈھانچہ بنائے۔

اب وہ خواب حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔ ہبرس اور اس کی کمپنی کے 50 ملازمین ایمسٹرڈیم دریا کے 65 کلو میٹر جنوب میں میرویڈس کے کنارے پر،کھڑی ہوی کشتی کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ یہ واحد اصلی لکڑی کی بنی ہوئی کشتی ہے۔ 52 سالہ انتہائی مذہبی ولندیذی شہری ہبرس کا کہنا ہے، ’’ہم لوگوں کو خدا کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔ ہم کوئی ایسی چیز بنانا چاہتے ہیں جو بائبل کی صیع عکاسی کرتی ہو‘‘۔ ہبرس کا منصوبہ ایک ’بائبل میوزیم‘ بنانے کا ہے جو سال کے آخر میں کھلے گا۔ لیکن وہ مقامی باشندوں کو اس مہینے کے آخر میں ایک دن کے لیے کشتی کو چپکے سے دیکھنے کا موقع دے گا۔

اس پروجیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ ہبرس نے کشتی بنانے کے لیے بائبل میں دی گئی قدیم پیمائش اور وضاحت کا استعمال کیا تاکہ جہاں تک ہو سکے اُس دور میں پائی جانے والی کشتی کی منظر کشی کر سکے ۔کشتی کے ڈیک پر 1600 مختلف اقسام جانوروں کے ڈھانچے ہوں گے جو حضرت نوح کی کہانی کو اصلی زندگی میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ اس بڑی کشتی میں سونے کی جگہ، تھیٹر، اعلی رستوران اور ایک کانفرنس ہال جہاں 1500 لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہو گی بھی موجود ہے۔وہاں ایک پتھر کی چکی بھی ہو گی جس کے ساتھ لوگ آٹا پیس کے پرانے زمانے والے نان بنا سکتے ہیں۔ ہبرس کے ملازمین دیواروں پر بائبل کی کہانیوں کو تصویری شکل میں پیش کریں گے۔

اس پروجیکٹ کا خیال ہبرس کو 2002ء میں آیا تھا جب اسکو ایک خوفناک خواب آیا جس میں اس نے ہالینڈ کو ڈوبتے ہوئے دیکھا۔ اگلے دن اس نے حضرت نوح کی کہانی کے بارے میں کتاب خریدی۔ اسکو پڑھنے کے بعد ہبرس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسی طرح کی کشتی بنائے گا۔2004ء میں اس نے ایک چھوٹی کشتی بنا لی تھی جس پہ وہ لوگوں کو ہالینڈ کی نہروں کی سیر کرواتا تھا۔ ان ٹورز کے منافع سے اس نے 2008ء میں اس بڑی کشتی کو بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہبرس اپنی بڑی کشتی کو 2012ء لندن میں ہونے والے اولمپکس کے دوران وہاں لے کر جائے گا

ہبرس اپنی بڑی کشتی کو 2012ء لندن میں ہونے والے اولمپکس کے دوران وہاں لے کر جائے گا

ہبرس اپنی بڑی کشتی کو 2012ء لندن میں ہونے والے اولمپکس کے دوران وہاں لے کر جائے گا تاکہ وہ ’’لوگوں کو خدا کے نزدیک لاسکے اور اسکی بنائی ہوئی تخلیقات کے بارے میں بتا سکے‘‘۔

رپورٹ: راحل بیگ ⁄ سائرہ ذوالفقار

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM