1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حسین حقانی کے انکشافات نے سیاسی ماحول پھر گرما دیا

امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ کالم نے پاکستان کے سیاسی ماحول کو ایک بار پھر گرما دیا ہے۔

اس کالم میں سابق پاکستانی سفیر نے مختلف انکشافات کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پی پی پی حکومت کی مرضی سے سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں اسامہ کی کھوج کے لیے آئے تھے۔

ان انکشافا ت کی دھوم نہ صرف پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس پر خوب تبصرے ہو رہے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے ایک مرکزی رہنما نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں یہ سوال کیا ہے کہ حسین حقانی کیسے پاکستان کا سفیر بن سکتا ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا،’’ غدارِ پاکستان کے انکشاف کے بعد پی پی پی بے نقاب ہوگئی ہے۔ یہ محب وطن پارٹی نہیں ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہر غدار اپنے جرم کا اعتراف کررہا ہے لیکن آئین و قانون اس کو گرفتار کر کے سزا نہیں دے سکتا۔ کیا ملک ہے۔‘‘


کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان انکشافات نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو چراغ پا کر دیا ہے، جس کو یہ پہلے ہی شک تھا کہ حسین حقانی ریاستی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ان انکشافات پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے معروف دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’فوج کے علم میں پہلے ہی سے کئی باتیں تھیں۔ میمو گیٹ اسکینڈل سے سب واقف ہیں۔ ان انکشافات کے بعد فوج کے ان دعووں کو مذید تقویت ملی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حسین حقانی ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اس سے حسین حقانی کا جھوٹ بھی پکڑا گیا۔ او بی ایل کمیشن کے سامنے اس نے حلف اٹھا کر کہا کہ حکومت نے اس کو کبھی نہیں کہا کہ وہ لوگوں کو ویزے جاری کرے اور اب وہ انکشافات کو افشاء کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے اور امریکا میں یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ وہ ایک مختلف نقطہء نظر رکھتا ہے۔ اسی لیے اسے پاکستان میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سابق سفیر وہی زبان استعمال کرتا ہے جو کچھ امریکی ارکان کانگریس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ان کی زبان بولتا ہے اور انہیں خوش کرنے کے لیے ملکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘‘

Pakistan Hussein Haqqani in Islamabad (dapd)

زرداری صاحب نے امریکا کے دورے کے موقع پر حسین حقانی سے ملاقات نہیں کی جس کی وجہ سے وہ ناراض ہے اور کچھ عرصے سے سابق صدر اور پارٹی کے خلاف لکھ رہا ہے، منظور چوہدری


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اگر حسین حقانی نے یہ کہہ دیا کہ اس نے یہ سب کچھ اس وقت کے صدر اور وزیرِ اعظم کے کہنے پر کیا تھا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی لیکن صدر اور وزیرِ اعظم بھی استثنٰی کے پیچھے چھپ جائیں گے اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔‘‘
ان انکشافات کے سیاسی اثرات کے حوالے سے امجد شعیب کا کہنا تھا، ’’میرے خیال میں سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو اٹھا کر پیپلز پارٹی سے سوال کریں گی اور عام شہری عدالت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔‘‘
کچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان انکشافات سے پی پی پی کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن پارٹی کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ پی پی پی کے ترجمان منظور چوہدری نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ان انکشافات سے پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہماری ہی پارٹی نے شمسی ایئر بیس خالی کرایا اور ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد نیٹو کی سپلائی بند کی۔ زرداری صاحب نے امریکا کے دورے کے موقع پر حسین حقانی سے ملاقات نہیں کی جس کی وجہ سے وہ ناراض ہے اور کچھ عرصے سے سابق صدر اور پارٹی کے خلاف لکھ رہا ہے۔ اس کے نظریات سے پی پی پی کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘

Pakistan USA Botschafter Husain Haqqani (AP)

حسین حقانی میموگیٹ اسکینڈل کے حوالے سے بھی خبروں کا مرکز رہے تھے


ان انکشافات پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار ڈاکڑ خالد جاوید جان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اگر سویلین حکومت نے اوسامہ کو پکڑنے کی اجازت دی تھی تو اس میں کیا غلط بات ہے۔ قانون اور آئین کی رو سے کسی ایسے فرد کے پکڑے جانے کو غلط نہیں قرار دیا جا سکتا جو آپ کے شہریوں کی بھی ہلاکت میں ملوث ہو اور بین الاقوامی برادری بھی اس کی دہشت گردی کا شکار ہو۔ آپ دوہرا معیار نہیں رکھ سکتے۔ ایک طرف آپ کہیں کہ دہشت گرد ہمارے لوگوں کو مار رہے ہیں اور جب ایسے دہشت گردوں کو مار ا جائے تو آپ اس پر شور بھی کریں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد جاوید نے کہا، ’’کچھ لوگوں کے خیال میں اگر سویلین حکومت اسٹیبلشمنٹ کو بائی پاس کر کے کوئی کام کرتی ہے تو یہ غلط ہے۔ وہ تو اس کو غداری سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں لیکن جو یہ سمجھتے ہیں کہ سویلین حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے تو ان کے لیے حکومت کا اقدام قابلِ ستائش ہوگا۔‘‘