1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حسین حقانی پر ملک سے باہر جانے پر پابندی

پاکستانی سپریم کورٹ نے امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو ملک چھوڑ کر جانے سے منع کر دیا ہے کیونکہ ایک عدالتی کمیشن اُس میمو اسکینڈل میں اُن کے کردار کی چھان بین کر رہا ہے، جو حقانی کے استعفے کا باعث بنا۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی

سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی

سپریم کورٹ نے ایک سابق سینئر سرکاری تفتیش کار طارق کھوسہ کو اِس تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف کے حوالے سے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ عدالت نے حسین حقانی کو اگلے تین ہفتوں کے دوران، جب تک کہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، ملک میں ہی رہنے کا حکم دیا ہے۔ خواجہ آصف اُن 9 اپوزیشن سیاستدانوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے عدالت میں اس اسکینڈل کے حوالے سے تحقیقات کی درخواست پیش کی تھی۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے ناقدین اس اسکینڈل کو صدر آصف علی زرداری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے دعویٰ کیا تھا کہ اُس کی جانب سے اعلیٰ ترین امریکی فوجی قیادت کو بھیجے جانے والے میمو کو صدر زرداری کی بھی تائید و حمایت حاصل تھی تاہم صدر اِس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔

حسین حقانی پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ

حسین حقانی پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ

اس میمو میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا باعث بننے والی امریکی کارروائی کے بعد پاکستان میں فوج کی طرف سے کسی ممکنہ بغاوت کو روکنے کے لیے امریکہ کی مدد طلب کی گئی تھی۔

حسین حقانی نے کہا ہے کہ اُنہیں عدالت کی جانب سے تحریری طور پر کوئی حکم نامہ نہیں ملا ہے تاہم یہ کہ وہ ویسے بھی ملک سے باہر سفر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اُنہوں نے کہا: ’’مَیں نے شفاف تحقیقات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ اگر میرا ملک چھوڑنے کا ارادہ ہوتا تو مَیں ملک میں واپس ہی کیوں آتا۔‘‘

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس