1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حسن روحانی دو روزہ دورے کے بعد وطن روانہ

ایرانی صدر حسن روحانی پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ ایرانی صدر کے بقول پاکستانی بری فوج کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں 'را' کی پاکستان میں مداخلت کے معاملے پر بات نہیں ہوئی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ہفتے کو اسلام آباد میں ایک مصروف دن گزارا۔ انہوں نے پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور صدر ممنون حسین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور پاک ایران بزنس فورم اور پاکستانی دانشوروں کی ایک تقریب سے بھی خطاب کیا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ایرانی صدر کے ساتھ ہفتے کے روز ملاقات میں ’را‘ کی پاکستان کے اندرونی معاملات خصوصاً صوبہ بلوچستان میں مداخلت سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر کے ساتھ پاکستان کودرپیش چیلنجوں کو اجاگر کیا۔ بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان کےداخلی معاملات خصوصاً پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے علاقائی سلامتی، پاک ایران تعلقات اور سرحدی سیکورٹی اور روابط سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ایرانی صدر نے پاک فوج اور آپریشن ضرب عضب میں اس کی نمایاں کامیابیوں کو سراہا۔

بعد ازاں ایرانی صدر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن اور بجلی کے منصوبوں پر کام آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا،’’پاکستان کے ساتھ تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں مین تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو بجلی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔ گوادر کی بندر گاہ کو ریل کے ذریعے چین کے ساتھ ملا دیا جائے تو پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘

حسن روحانی نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور مصالحانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایران اور پاکستان قریب ہونے لگتے ہیں تو افوہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا،’’میری نواز شریف سے افغانستان کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان، ایران اور افغانستان کے سہہ فریقی تعاون کو فروغ ملے۔‘‘

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حسن روحانی نے کہا کہ ایران سعودی عرب کےساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک بڑا اسلامی ملک ہے اور اسے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس سے قبل ایرانی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے مشترکہ کاروباری فورم کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی احترام، مشترکہ ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی انقلاب سے خطے میں بھی خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے دہشت گردی اور توانائی کے چیلنجوں سے نمٹنا ناگزیر ہے۔

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’ہم علاقائی ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا،’’پاک ایران سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دے کر معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ ان کے بقول ایران گیس اور تیل کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیےتیار ہے۔

حسن روحانی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کی اعلی سول و فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ایران کے صدر کی حیثیت سے حسن روحانی کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے والے ایرانی صدر کے ہمراہ تہران سے ایک اعلی سطحی وفد بھی اسلام آباد پہنچا تھا۔