1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حسنی مبارک کے نمایاں حریف محمد مصطفیٰ البرادعی

مصر سے تعلق رکھنے والے 68 سالہ محمد مصطفیٰ البرادعی، صدر حسنی مبارک کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ مظاہروں میں مسلسل شریک ہوکر صدر مبارک کو جلد از جلد ملک چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں۔

default

محمد مصطفیٰ البرادعی رواں سال کے لیے شیڈیول صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ البرادعی 17 جون 1942ء کو دارالحکومت قاہرہ کے ایک روشن خیال گھرانے میں پیدا ہوئے اور قاہرہ ہی کی یونیورسٹی سے گریجوئیشن تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نےنیویارک یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے 1964ء میں مصر کی وزارت خارجہ سے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ طویل عرصے تک نیویارک اور جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے دفاتر میں مصر کی نمائندگی کرتے رہے۔ وہ دسمبر 1997ء میں بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے IAEAکے ڈائریکٹر بنے۔ وہ اس منصب پر مسلسل 12 سال تک فائز رہے۔

Friedensnobelpreis für Mohamed ElBaradei

البرادعی ناروے میں امن کا نوبل انعام وصول کرنے کے موقع پر، فائل فوٹو

ان کے دور میں یہ ادارہ انتہائی حساس نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات سے نمٹتا رہا۔ ان میں عراق میں کیمیاوی اور جوہری ہتھیاروں کی کھوج اور ایران کا متنازعہ جوہری پروگرام قابل ذکر ہیں۔ البرادعی 2003ء میں عراق پر امریکی حملے پر واضح الفاظ میں تنقید کر چکے ہیں۔ البرادعی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے اکثر اوقات مسائل مزید گھمبیر ہوجاتے ہیں، سلجھتے نہیں۔

2005ء میں جب انہیں تیسری مدت کے لیے IAEA کا سربراہ منتخب کیا جارہا تھا تو صرف امریکہ نے ان پر اعتراض کیا تھا، جو بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔ روس، چین اور جرمنی نے ان کی کھل کر حمایت کی تھی۔

امریکی حکام البرادعی پر شاکی تھےکہ وہ ایران سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ سابق امریکی صدر جورج بش کی انتظامیہ البرادعی کو اس لیے بھی ناپسند کرتی تھی کیونکہ وہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیاروں کی موجودگی کے امریکی دعووں کو غلط ٹہرا چکے تھے۔ 2005ء ہی میں انہیں اور ان کے ادارے IAEA کو امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

IAEA سے ریٹائرمنٹ کے بعد گزشتہ سال فروری میں جب البرادعی مصر لوٹے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔ امید کی جارہی تھی کہ وہ فوری طور پر سیاسی کیریئر کا آغازکرکے صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

Allein und zum Rückzug aufgefordert

البرادعی اقوام متحدہ میں عراق سے متعلق اپنا بیان دیتے ہوئے،فائل فوٹو

ملک میں سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنے سے قبل انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ آئین میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں، جس میں انسانی حقوق کی زیادہ بہتر انداز میں قدر کی جائے۔ اس کے بعد انہوں نے عوام سے نومبر کے پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ البرادعی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی۔ ان انتخابات کے بعد صدر مبارک کی جماعت کو کامیابی حاصل ہوئی۔

مصر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں اب البرادعی کھل کر صدر مبارک کے مقابلے پر آگئے ہیں۔ عوامی خطابات میں وہ گزشتہ تین دہائیوں سے مصر پر حکمرانی کرنے والے صدر حسنی مبارک سے جلد از جلد ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھانے میں مصروف ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM