1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حسنی مبارک کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں

مصر میں تاریخی نوعیت کے عوامی احتجاج میں شدت برقرار ہے۔ صدر حسنی مبارک نے قاہرہ میں فوجی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

default

فائل فوٹو

مصر میں مبارک کے تیس سالہ اقتدار میں پہلی بار اس تسلسل سے ان کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہوئے ہیں۔ امریکی، یورپی ممالک اور بھارت نے اپنے شہریوں کو مصر سے نکالنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کی ہزاروں شہری مصر میں سیاحت کی غرض سے موجود ہیں اور ان کا اپنا پروگرام منسوخ کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

مصر میں صدر حسنی مبارک سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین مسلسل چھٹے روز صدائے احتجاج بلند رکھے ہوئے ہیں۔ مختلف واقعات میں مارے جانے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرچکی ہے۔

اندرونی اور بیرونی دباؤ میں اضافے کے بعد صدر حسنی مبارک پہلی بار مصر میں نائب صدر نامزد کرچکے ہیں۔ اس عہدے کے لیے انہوں نے انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان کو چُنا ہے۔ صدر مبارک نے احمد شفیق کی بطور وزیر اعظم نامزدگی کا اعلان بھی کردیا ہے۔

Hosni Mubarak und Omar Suleiman NO FLASH

صدر حسنی مبارک نائب صدر عمر سلیمان کے ہمراہ

75 سالہ عمر سلیمان کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن معاہدے اور فلسطینی دھڑوں کے باہمی اختلافات ختم کروانے کے لیے طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ 69 سالہ احمد شفیق کو مصر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ مستقبل کے مصری صدر تصور کئے جارہے ہیں۔

صدر مبارک کے ان اقدامات کے باوجود احتجاج کا سلسلہ بظاہر رُکتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہفتہ کو قاہرہ کے جنوب میں مظاہرین نے ایک تھانے کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی تھی جس دوران مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے 22 مظاہرین مارے گئے۔ ملک بھر میں گزشتہ پانچ دنوں میں مجموعی ہلاکتوں کا اندازہ 102 لگایا جارہا ہے۔

مصر سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ میں بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادئی بھی صدر مبارک پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ نائب صدر اور وزیرا عظم کی نامزدگی ناکافی ہے اور عافیت اسی میں ہے کہ صدر مبارک اور ان کے ساتھی جلد از جلد مصر چھوڑ دیں۔

دارالحکومت قاہرہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فوجی ٹینکوں کی موجودگی اور رات کے کرفیو کے باوجود لگ بھگ دو سو مظاہرین رات بھر ’تحریر چوک‘ میں موجود رہے۔

Proteste in Kairo

تحریر چوک کا ایک منظر

یہی وہ مقام ہے جہاں دن کے وقت بھرپور انداز سے احتجاجی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ چلتا رہا اور فوج خاموشی سے تماشہ دیکھتی رہی۔

اتوار سے مصر میں کاروباری زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ عرب دنیا کی اس سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے غیر یقینی سیاسی مستقبل کے اثرات مالیاتی منڈیوں پر نمایاں ہیں۔ ملکی سٹاک مارکیٹ اور بینک اتوار کو بند رکھنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ مصری دارالحکومت میں لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں اضافے کے بعد نوجوانوں کی ٹولیوں نے شب بھر اپنی املاک کی حفاظت کی۔ بتایا جارہا ہے کہ تھانوں سے ہزاروں کی تعداد میں قیدی فرار ہوچکے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM