1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

حسنی مبارک کی عدالت میں دوبارہ پیشی، سماعت پانچ ستمبر تک ملتوی

سابق مصری صدر حسنی مبارک آج پیر 15 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ان پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ مقدمے کی کارروائی اب پانچ ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

حسنی مبارک کمرہ عدالت میں

حسنی مبارک کمرہ عدالت میں

جج احمد رفعت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب حسنی مبارک اور ان کے سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی پر قائم مقدمات کو اکٹھا کر کے سنا جائے گا۔ اس کا مطالبہ مصر میں چلنے والی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔

حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی کارروائی تین اگست کو شروع کی گئی تھی۔ اس مقدمے کی کارروائی ٹیلی وژن پر براہ راست دکھائی گئی تھی۔ مصری عوام کے لیے یہ بات ایک عجوبے سے کم نہیں تھی، کیونکہ لوگوں کو یقین تھا کہ مبارک کو کبھی عدالتی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

آج پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کی ٹیلی وژن پر براہ راست نشریات جج احمد رفعت نے رکوا دی۔ مختصر کارروائی کے بعد جج نے اب اس کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے پانچ ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

83 سالہ حسنی مبارک کو بیماری کے باعث قاہرہ کے مضافات میں موجود ایک ملٹری ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔ وہاں سے انہیں پہلے ہیلی کاپٹر اور پھر ایک ایمبولینس کے ذریعے پولیس اکیڈمی میں ہونے والی اس سماعت کے لیے لایا گیا۔ انہیں ایک سٹریچر پر لٹا کر ان کے دو بیٹوں جمال اور اعلاء کے ساتھ کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

حسنی مبارک کے دو بیٹوں جمال اور اعلاء کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا

حسنی مبارک کے دو بیٹوں جمال اور اعلاء کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا

سماعت کے موقع پر مبارک کے حامی اور مخالفین کی طرف سے متوقع مظاہروں سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جنہیں بکتر بند گاڑیوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق اس موقع پر دو گروہوں کے درمیان تصادم ہوا۔ ایک دوسرے پر پتھر برسانے کے باعث کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

حسنی مبارک پر رواں برس جنوری اور فروری میں ان کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران سینکڑوں احتجاجی مظاہرین کی ہلاکت کی ذمہ داری کے علاوہ بدعنوانی کے بھی الزامات ہیں۔ اس تحریک کے باعث مبارک کو 11 فروری کو تین دہائیوں پر محیط اپنے اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔ تین اگست کو مقدمے کی کارروائی کے آغاز پر حسنی مبارک نے خود پر لگائے جانے والے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مبارک کو پہلی پیشی کے دوران بھی ڈاکٹر کی ہدایت پر اسٹریچر پر لٹا کر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے دو بیٹے جمال اور اعلاء بھی اس موقع پر عدالت میں ملزمان کے لیے بنائے گئے سلاخوں والے حصے میں موجود تھے۔ مبارک کے دونوں بیٹوں نے بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے جواب میں خود کو بے قصور قرار دیا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس