1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حسنی مبارک کو فوجی ہسپتال منتقل کیے جانے کا امکان

مصر کے سرکاری استغاثہ نے اتوار کو سابق صدر حسنی مبارک کو فوجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

default

سابق مصری صدر کی تازہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کی طبیعت بہتر ہو گئی ہے اور وہ چل پھر سکتے ہیں۔ اس بنیاد پر مصر کے سرکاری استغاثہ نے حسنی مبارک کو عسکری ہسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

حسنی مبارک کو حال ہی میں دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ سابق صدر پر سالِ رواں کے آغاز پر حکومت مخالف مظاہرین کو قتل کروانے اور ان پر تشدّد کروانے کے الزامات ہیں اور اس حوالے سے ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

NO Flash Hosni Mubarak in Untersuchungshaft und im Krankenhaus

سابق صدر مبارک کو حال ہی میں دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا

ذرائع کے مطابق حسنی مبارک کو قاہرہ کے قرب میں واقع انٹرنیشنل میڈیکل سینٹر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ بیاسی سالہ سابق صدر کے لیے بہرحال آئی سی یو کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لیے ہسپتال میں آئی سی یو قائم کیا جا رہا ہے اور اس میں ایک ماہ کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حسنی مبارک اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ کئی ماہ سے جاری عوامی مظاہروں کے بعد حسنی مبارک نے فروری میں اقتدار فوجی کونسل کے حوالے کر دیا تھا۔ عبوری عسکری حکومت نے انتخابات کروانے کا وعدہ کیا ہے تاہم حسنی مبارک اس کے لیے اب بھی پریشانی کا باعث ہیں۔ مخالفین مبارک اور سابقہ حکومت میں شامل دیگر افراد کے خلاف کڑی سے کڑی سزا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں ایک سرکاری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مصر میں مظاہروں کے دوران آٹھ سو چھیالیس شہریوں اور چھبیس پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ رپورٹ میں سابق صدر پر ان ہلاکتوں میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوّث ہونے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM