1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حسنی مبارک فوجداری عدالت کا سامنا کریں گے

مصر کے عدالتی حکام نے کہا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک اور ان کے دو بیٹوں کے خلاف حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ چلایا جا ئے گا۔ یہ الزام ثابت ہونے پر سزائے موت ہو سکتی ہے۔

default

سابق مصری صدر حسنی مبارک

مصر کے مستغیث اعلیٰ کے مطابق ان تینوں پر پرامن مظاہروں کے بعض شرکاء کے سوچے سمجھے قتل کا الزام ہے۔ یہ الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا ہو سکتی ہے۔ مصر میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسنی مبارک شرم الشیخ کے ایک ہسپتال میں قید ہیں۔ مبارک اور ان کی اہلیہ پر غیرقانونی ذرائع سے دولت جمع کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ ان کے دو بیٹے علاء اورجمال قاہرہ کی طرہ جیل میں قید ہیں۔

مصر عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حسنی مبارک کے ساتھ جو بھی ہوا، اس کا دیگر عرب ملکوں میں جاری عوامی تحریکوں پر اثر پڑے گا۔ روئٹرز نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مبارک کے خلاف ایسے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کرنے سے خطے کے دیگر رہنما اقتدار چھوڑنے سے کترائیں گے۔

مصر میں مبارک اور دیگر کے خلاف کارروائی اور تیز ترین اصلاحات کے مطالبے زور پکڑ رہے ہیں۔ اس حوالے سے قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر جمعہ کو احتجاج کی کال بھی دی گئی ہے۔ تاہم مبارک کے خلاف مقدمے کا اعلان ایسے کسی مظاہرے سے پہلے ہی سامنے آ گیا ہے۔

مبارک کو جیل کے بجائے ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔ عوام میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ عسکری حکام اپنے ماضی کے ساتھی کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ وہ صدر بننے سے پہلے ایئر فورس کے کمانڈر تھے۔

فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سابق صدر اور ان کے خاندان کا مقدمہ عدالت کے سامنے ہے۔

حسنی مبارک نے 11 فروری کو اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد عہدہ چھوڑا تھا۔ انہوں نے تین دہائیوں تک اس عرب ریاست پر حکمرانی کی۔

Suzanne Mubarak 2008

حسنی مبارک کی اہلیہ

انہوں نے اقتدار فوج کو سونپا تھا، جس نے نگران حکومت قائم کر رکھی ہے، جو نئے آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔

خیال رہے کہ اپنے دورِ اقتدار کے خلاف وسیع تر مظاہرے شروع ہونے پر قبل ازیں حسنی مبارک نے فوری طور پر مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا۔ تب انہوں نے محض یہ یقین دلایا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ تاہم مظاہروں میں شدت آنے پر وہ اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM