1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حزب اللہ کے ’بانی‘ فضل اللہ انتقال کر گئے

لبنان کے معروف شعیہ عالم آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں شدت پسند گروپ حزب اللہ کی تشکیل میں اہم محرک خیال کیا جاتا ہے۔ ان کی عمر 74 برس تھی۔

default

آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ

وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بیمار تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی باعث وہ جمعہ کی عبادات کے موقع پر اپنا ہفتہ وار واعظ بھی نہیں دے پا رہے تھے۔

انہیں جمعہ کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔

Libanon Siegesfeier der Hisbollah in Beirut

فضل اللہ کو حزب اللہ کا روح رواں قرار دیا جاتا رہا

ان کی موت کی خبر آتے ہی حزب اللہ کے ٹیلی ویژن چینل المنار نے معمول کے پروگرام بند کر کے سوگواری نشریات کا آغاز کر دیا۔

فضل اللہ عراق میں شعیہ مسلمانوں کے مقدس شہر نجف میں پیدا ہوئے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1966ء میں لبنان منتقل ہو گئے۔

ان کے پیروکار لبنان اور عراق دونوں ہی ممالک میں موجود ہیں جبکہ ان کا اثرورسوخ وسطی ایشیا اور خلیجی ریاستوں تک پایا جاتا ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 1985ء میں ایک کاربم دھماکہ ہوا تھا، جس میں تقریبا 80 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کو فضل اللہ کے قتل کی کوشش قرار دیا گیا تھا اور اس کی ذمہ داری امریکی خفیہ ادارے CIA پر ڈالی گئی تھی۔

فضل اللہ کو حزب اللہ کا روحانی رہنما قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم فضل اللہ یا اس شدت پسند گروپ، کسی نے کبھی یہ بات قبول نہیں کی۔ حزب اللہ کی بنیاد 1982ء میں رکھی گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں فضل اللہ نے حزب اللہ سے دُوری بنائی رکھی رہی ، جس کی وجہ اس شدت پسند گروپ کے ایران کے ساتھ رابطوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی کو کھل کر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

انہوں نے 2008ء میں باراک اوباما کی امریکہ صدارتی انتخابات میں فتح کا خیرمقدم کیا تھا۔ تاہم گزشتہ برس ان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل میں کسی خاطر خواہ پیش رفت میں ناکامی پر مایوسی بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے اوباما کے پاس خطے میں امن لانے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔

Norwegen USA Friedensnobelpreis 2009 für Barack Obama

امریکی صدر باراک اوباما

خبررساں AFP کے مطابق واشنگٹن انتظامیہ انہیں دہشت گرد قرار دے چکی تھی۔ وہ امریکہ کے انتہائی مخالف رہے ہیں، جس کی وجہ سے شعیہ مسلمانوں میں بے حد مقبول بھی رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت کی ایک دوسری وجہ ان کے اعتدال پسندانہ اخلاقی نظریات بھی رہے۔ فضل اللہ اسلامی معاشرے میں خواتین کے کردار پر ترقی پسند نظریات رکھتے تھے۔ انہوں نے 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی حمایت بھی کی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM