1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حزب اللہ کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام مسترد

حزب اللہ لبنان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے اپنے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا ہے شہری آبادی پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیا ہے۔

default

حز ب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کے مطابق ان کی تنظیم نے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا ہے لیکن یہ سب کچھ اسرائیل کے ان حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے جس میں سینکڑوں لبنانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ ہم نے اسرائیلی شہروں، آبادیوں اور انفرا اسٹرکچر پر بمباری کی ہے لیکن یہ سب کچھ اسرائیل کے خلاف ایک قدرتی ردعمل کا نتیجہ تھا کیونکہ جب کسی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے تو اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ضروری ہو جا تا ہے۔

انہوں نے کہا ایمنسٹی انٹرنیشل نے یہ رپورٹ امریکہ اور اسرائیل کے دباﺅ میں آکر لکھی ہے۔واضح رہے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں حزب اللہ پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف 34 روزہ جنگ میں جان بوجھ کر عام اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بناکر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ایمنسٹی کے رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے شمالی اسرائیلی پر 4000 میزائل فائر کیے ہیں جس کی وجہ سے 43 شہری ہلاک اور سینکڑوں بے گھر ہو گئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشل نے اس سے پہلے اسرائیل پر بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایاتھا جبکہ اسرائیل نے بھی ایمنسٹی انٹرنیشل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے جنگ کے زمانے میں رائج قوانین کے مطابق عمل کیا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشل نے اقوام متحدہ سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں طر ف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیق کروائے۔

ادھر لبنان کے بحران کے ایک ماہ بعد اسرائیل کی سیاسی اور فوجی قیادت پر اس بحران سے صحیح طرح سے نہ نمٹنے کی وجہ سے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج کے سابق سربراہ نے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور فوج کے سربراہ ڈین ہالوٹسDan Halutz سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے اسرائیل کی سیاسی اور فوجی قیادت پر الزام لگایا کہ اس نے بغیر کسی واضح سیاسی اور دفاعی ہدف کے محض ذرائع ابلاغ میں خبر کو بڑھا چڑھا کرپیش کرنے کے لئے زمینی حملہ شروع کیا جس میں ۳۳ اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔