1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حزب اللہ اور نصرہ فرنٹ کے مابین جنگجوؤں کی لاشوں کا تبادلہ

ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور القاعدہ کے حامی شدت پسند گروہ النصرہ فرنٹ نے شامی خانہ جنگی میں ایک دوسرے کے خلاف لڑتے لڑتے مارے جانے والے اپنے اپنے جنگجوؤں کی لاشوں کا تبادلہ شروع کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے تیس جولائی بروز اتوار بتایا کہ ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور القاعدہ کے حامی سنی انتہا پسندوں کے گروہ النصرہ فرنٹ نے جس معاہدے کے تحت آپس میں اپنے فائٹرز کی لاشوں کا تبادلہ آج اتوار کے دن سے شروع کیا ہے، وہ لبنان اور شام کے درمیان سرحدی علاقوں کے لیے طے پانے والی جنگ بندی ڈیل کا حصہ ہے۔

شام میں حزب اللہ کا اہم کمانڈر ہلاک

چھ عرب ملکوں نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا

شامی فورسز اور حزب اللہ کے جنگجو الزبدانی میں داخل ہو گئے

حزب اللہ کے نشریاتی ادارے المنار ٹیلی وژن نے بتایا کہ لبنان اور شام کے سرحدی علاقوں میں ان دونوں گروہوں نے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا ہے اور شامی خانہ جنگی میں عرسال کی لڑائی میں مارے جانے والے جنگجوؤں کی لاشوں کا تبادلہ اسی ڈیل کے تحت کیا جا رہا ہے۔

اس سیزفائر ڈیل پر عملدرآمد جمعرات سے شروع ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت النصرہ فرنٹ حزب اللہ کے پانچ قیدیوں کو بھی رہا کر دے گا۔ جواب میں النصرہ فرنٹ کو شمالی شامی علاقوں میں جانے کی اجازت ہو گی اور جو شخص بھی اس گروہ کے ساتھ جانا چاہے گا، اسے روکا نہیں جائے گا۔

یہ دونوں جنگجو گروہ کئی برسوں سے شام سے متصل لبنانی پہاڑی علاقے عرسال میں موجود ہیں، جہاں ان کے مابین جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ شامی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سنی جہادی گروہ النصرہ فرنٹ نے ہمسایہ ملک لبنان کے اس علاقے میں اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔

تاہم حال ہی میں حزب اللہ کے جنگجوؤں نے عرسال میں النصرہ کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے تھے، جن کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہی ایران نواز شیعہ ملیشیا نے النصرہ فرنٹ کے جہادیوں کو کافی پیچھے دھکیل دیا تھا۔

حزب اللہ کے مطابق اس تازہ کارروائی میں اس سنی انتہا پسند گروہ کے ایک سو پچاس جنگجو مارے گئے تھے جبکہ اسی کارروائی میں حزب اللہ کے بھی دو درجن کے قریب فائٹر ہلاک ہو گئے تھے۔

شامی خانہ جنگی میں صد بشار الاسد کے حامی گروہ حزب اللہ کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اب وہ عرسال میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف بھی بڑی کارروائی شروع کرنے والا ہے۔ النصرہ فرنٹ اور حزب اللہ کے درمیان سیز فائر ڈیل کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

DW.COM