1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حریری کی برسی، مغنیہ کی تدفین

لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ملک کے سابق وزریر اعظم رفیق حریری کی تیسری برسی منائی گئی جبکہ شہر کے جنوب میں حزب اللہ کے مقتول رہنما عماد مغنیہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

default

انتہائی حفاظتی اقدامات کے تحت لبنان میں ایک طرف مغرب نواز حریری کی برسی منائی گئی تو دوسری طری اس سے کچھ ہی فاصلے پر اپوزیشن حذب اللہ کے ایک کمانڈرعماد مغنیہ کو سپرد خاک کیا گیا۔ شام مخالف حریری اور شام نواز مغنیہ کے گروپس میں تصادم کے پیش نظر علاقے میں پولیس کی بھاری نفری ابھی تک موجود ہے۔ رفیق حریری کی تیسری برسی کے موقع پر بیروت میں ہزاروں افراد نے اپنے رہنما کی تصاویراٹھائی ہوئیں تھیں۔ اس موقع پر مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مختلف تقاریب منعقد کی گئیں۔ رفیق حریری اور ان کے بیس رفقاء 2005 میں ایک طاقتور بم حملے ہلاک ہوئے ہوئے تھے۔ رفیق حریری کی برسی کی تقریبات بیروت میں ان کی قبر پر منعقد کی گئیں۔

رفیق حریری قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم نے حریری کیس میں شام کو زمہ دار ٹھرایا تھا۔ بارہ فروری کو شام کے دارلحکومت دمشق میں کار بم حملے میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے کمانڈرعماد مغنیہ کو بیروت میں سپرد خاک کیا گیا۔ عماد مغنیہ کی نماز جنازہ بیروت کے جنوب میں شیعہ آبادی والے علاقے میں ادا کی گئی۔ مغنیہ کی رسم تدفین کے موقع پر حزب اللہ کے لیڈرحسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا۔ اس موقع پر ایران کے وزریر خارجہ منوچہر متقی بھی موجود تھے۔ ایک وقت میں مغنیہ کو دنیا کا سب سے خطرناک دہشت گرد سمجھا جاتا تھا۔ امریکہ میں گیارہ ستمبرکے حملوں سے پہلے مغنیہ کو دنیا میں سب سے زیادہ امریکیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اسامہ بن لادن سے قبل عماد مغنیہ کا نام امریکہ کو مطلوب افراد میں سرفہرست تھا۔

لبنان اس وقت سیاسی بحران کا شکار ہے۔ گزشتہ برس نومبر سے ملک میں کوئی صدر نہیں ہے اور نہ ہی ملکی پارلیمان کام کر رہی ہے۔ جبکہ صدارتی انتخابات متعدد بار ملتوی کئے جا چکے ہیں ۔ پچھلے دنوں لبنانی فوج کے ہاتھوں ، حذب اللہ کے کارکن کی ہلاکت کے بعد بیروت میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر آج کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا تو وہ ملک کی داخلی صورتحال کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔