1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ کو پھانسی

بنگلہ دیشی شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ مفتی عبدالحنان کو سن 2004 میں برطانونی سفیر پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں جمعرات کے روز پھانسی دے دی گئی۔

چودہویں  صدی کے ایک مقبرے پر کیے گئے اس حملے میں بنگلہ دیش میں تعینات برطانوی سفیر زخمی جبکہ دیگر تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں مفتی عبدالحنان اور اس کے دو ساتھیوں کو  سن 2008 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان تینوں مجرموں نےبنگلہ دیشی صدر سے معافی کی درخواست کی تھی لیکن ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش کی پہلی شدت پسند تنظیم ہے۔ یہ تنظیم سب کی نظروں میں زیادہ تب نظر آنا شروع ہوئی جب عبدالحنان کی قیادت میں اس تنظیم نے کئی شدت پسندانہ کارروائیاں کی۔

بنگلہ دیشی انتظامیہ نےحنان اور اس کے ایک ساتھی کو ڈھاکا کے مضافات میں اعلیٰ سکیورٹی کی ایک جیل میں بدھ کی رات دس بجے پھانسی دے دی تھی۔ اس کے دوسرے ساتھی کو بنگلہ دیش کے شہر سِلہٹ میں پھانسی دی گئی تھی۔  ان مجرمان کی لاشوں کو انتہائی سکیورٹی میں ان کے آبائی علاقوں میں بھجوا دیا گیا۔

Bangladesch Sheikh Hasina trifft Shah Ahmad Shafi (bdnews24.com)

شیخ حسینہ پر دو قاتلانہ حملوں میں ملوث ہونے پر حنان کے گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے ہمدردی نہ تھی

عبدالحنان کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کے اپنے گاؤں میں بھی اسے نفرت کا سامنا تھا۔ بنگلہ دیش میں خون ریز دھماکوں اور  شیخ حسینہ پر جب وہ حزب اختلاف کی لیڈر تھیں، دو قاتلانہ حملوں میں ملوث ہونے پر حنان کے گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے ہمدردی نہ تھی۔

ساٹھ سالہ حنان مدرسے میں معلم تھا جس نے بھارت اور پاکستان سے تعلیم حاصل کی تھی اور افغانستان میں سابقہ سویت یونین کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لیا تھا جس کے بعد وہ واپس بنگلہ دیش جا کر حرکت الجہاد الاسلامی کا حصہ بن گیا تھا۔

سن 2005 میں اپنی گرفتاری سے قبل حنان کی جانب سے پلان کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ چند برسوں میں القاعدہ اور شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب سے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے تاہم ملک کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش کی مقامی شدت پسند تنظیمیں ان حملوں میں ملوث ہیں۔

پولیس نے گزشتہ برس ڈھاکا کے ایک انتہائی پوش علاقے میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے اور مختلف کارروائیوں میں 60 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس حملے میں غیر ملکیوں سمیت 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔       

DW.COM