1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حج کے بعد بھی پاکستانی حاجی مسائل کا شکار

سعودی عرب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پہلے مہنگی رہائش گاہوں، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشان پاکستانی حاجیوں کو اب واپسی کے لیے ٹرانسپورٹ کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔

default

خانہ کعبہ کا فضا سے ایک منظر

اس سال ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی عازمین حج سعودی عرب گئے تھے۔ جہاں پر ان کے پہنچنے کے بعد ہی سے یہ شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں کہ حج انتظامات میں پاکستانی وزارت مذہبی امور کی مبینہ کرپشن کے باعث حاجیوں کی اکثریت کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔

پارلیمنٹ میں وزارت کے ناقص انتظامات پر شدید تنقید کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے بھی ایک سعودی شہزادے کے پاکستانی وزارت حج کے حکام کی مبینہ کرپشن سے متعلق خط پر از خود نوٹس لے رکھا ہے۔ تاہم سعودی عرب میں موجود پاکستانی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کا کہنا ہے کہ غلطی ان کی وزارت کی نہیں بلکہ متعلقہ سعودی ادارے کی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ سعودی حکام سے پاکستانی حاجیوں کو ہرجانے کی ادائیگی کے لئے بات کریں گے، ''ہم نے جو معاہدہ کیا تھا اس معاہدے پر ٹھیک عملدرآمد نہیں ہوا اس بارے میں موسسہ جنوبی ایشیاء کے نمائندے میرے ساتھ خود ان کیمپوں کے دورے پر گئے اور بتایا گیا کہ یہ تمام حاجی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور جب انہوں نے صورتحال دیکھی تو اس بات سے اتفاق کیا کہ صورتحال واقعی پریشان کن ہے اور معاہدے پر ٹھیک سے عملدرآمد نہیں ہو سکا۔''

Haddsch Jamarat Islam Pilger Mekka Zelte

مکہ میں حاجیوں کا ایک گروپ

دوسری جانب سابق وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی کرپشن کے باوجود ابھی تک صرف وزارت کے سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر با اثر افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ۔ انہوں نے کہا، ''یہ سب کو معلوم تھا کہ اس دفعہ حج کے لیے کئے جانے والے انتظامات بدترین ہوں گے، اب یہ کہنا کہ سعودی حکومت کے انتظامات ٹھیک نہیں تھے، افسوس کی بات ہے۔ یہ انتظامات کرنا تو ہمارا کام ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ آپ میزبانوں پر تنقید کر رہے ہیں اور حاجی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ کوئی انکوائری نہیں ہوئی بس ایک آدمی کو پکڑ کے ایف آئی اے کے حوالے کیاگیا ہے لیکن میں آپ کو یہ بات بتا رہا ہوں کہ جلد ہی اسے چھوڑ دیا جائے گا۔''

ادھر پیر کے روز سعودی ایئر لائن کی دو پروازیں پرائیویٹ طور پر حج کے لئے جانے والے عازمین کو لے کر پاکستان واپس پہنچ گئی ہیں۔ سرکاری سکیم کے تحت حج کرنے والے 75 ہزار افراد کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ذریعے 21 نومبر کو وطن واپسی کا عمل شروع ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حاجیوں کی وطن واپسی اور ممکنہ شکایات کے بعد یہ معاملہ حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس