1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’حج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں‘، سعودی انتباہ

سعودی عرب نے عازمینِ حج کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے مکہ میں حج کے سالانہ اجتماع کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔ ریاض حکومت کو خدشہ ہے کہ مناسکِ حج کے دوران ناخوشگوار حالات کا امکان موجود ہے۔

سعودی عرب کے وزیر داخلہ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف نے کہا ہے کہ سعودی سکیورٹی فورسز حج کے دوران پوری طرح چوکس رہیں گی اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ رویے کا بروقت اور مناسب جواب دیں گی۔ سعودی ولی عہد کا بیان سرکاری میڈیا پر جاری کیا گیا ہے اور اِس میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ حج کی بین الاقوامیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی یا اللہ کے مہمانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی عمل کیا گیا تو ایسے کسی بھی فعل میں شریک افراد کو سخت کارروائی کا سامنا ہو گا۔

گزشتہ برس تیس لاکھ افراد کو حج کی سعادت ملی تھی لیکن رواں برس سعودی عرب نے سخت قوانین متعارف کروا دیے ہیں اور حج کرنے والوں کی تعداد نصف سے بھی کم ہے۔ اِس مرتبہ بارہ لاکھ کے قریب زائرین سعودی عرب حج کے لیے پہنچے ہیں۔ حج کی رسومات رواں برس 23 ستمبر کو عقیدت و احترام سے مکمل کی جائیں گی اور عیدالاضحیٰ چوبیس ستمبر کو منائی جائے گی۔ یہ امر اہم ہے کہ رواں برس کا حج عالم اسلام میں شدید تنازعات اور اختلافات کے تناظر میں ادا کیا جا رہا ہے۔ مسلم دنیا میں شیعہ اور سنی مسالک کی تقسیم ماضی سے کہیں زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔

Saudi-Arabien Mohammed bin Nayef

سعودی عرب کے وزیر داخلہ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف

مکہ میں خانہ کعبہ کے ارد گرد مسجد الحرام میں موجود کئی اقوام کے زائرین اِس تمنا کا اظہار کرتے ہیں کہ عالمِ اسلام میں امن و سلامتی اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو سکے۔ شام کے مسلح تنازعے سے فرار ہو کر اردن میں مقیم علی سعید کے مطابق اُس کی خواہش ہے کہ متحارب لیڈروں کو عقل و شعور ملے اور وہ معصوم انسانوں کی قتل و غارت گری کو چھوڑ کر امن و سلامتی کو شعار بنائیں۔ بڑی عمر کے باریش ایرانی زائر عبداللہ رحمانی نے کہا کہ وہ ایران اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مکہ آئیں اور اِس مقام پر پائی جانے والی روحانیت سے گزرنے کا تجربہ کریں۔

شیعہ اور سنی عقائد کے ماننے والوں کے درمیان مسلح فرقہ واررانہ جھڑپیں سن 2011 سے عرب اسپرنگ کے ساتھ شروع ہیں۔ اب عراق، یمن، شام، اور لیبیا میں خانہ جنگی جیسے حالات چھائے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی تین مساجد پر جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے حامیوں کی جانب سے خود کُش حملے کیے جا چکے ہیں۔ عرب دنیا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عسکریت پسندوں کے نزدیک مساجد میں عبادت کرنے والوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہی ہے۔