1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حج کرپشن کیس: سابق وفاقی وزیر کو سولہ سال کی سزائے قید

پاکستان میں حج کرپشن کیس میں مذہبی امور کے سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کو سولہ سال کی سزائے قید کا حکم سنایا گیا ہے۔ چند سال پہلے سامنے آنے والا یہ کیس پاکستان کے قومی سیاسی منظر نامے پر زبردست ہلچل کا باعث بنا تھا۔

Pakistan Ex Minister für religiöse Angelegenheiten Hamid Saeed Kazmi

پاکستان کے مذہبی امور کے سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی ہمیشہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ دارالحکومت اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت کے جج ملک نذیر احمد نے سنایا۔ اس فیصلے کے تحت دو دیگر ملزمان کو بھی قید کی طویل سزائیں سنائی گئیں۔ حج کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل راؤ شکیل کو چالیس سال جبکہ مذہبی امور کے جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب اسلام کو سولہ سال کی سزائے قید کا حکم سنایا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ جس وقت یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا، اُس وقت دو ملزمان عدالت کے احاطے میں موجود تھے۔ فیصلے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اہلکار ان ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ جیل کی جانب روانہ ہو گئے۔ راؤ شکیل پہلے ہی لاہور میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں تھے۔

استغاثہ کی جانب سے ساٹھ گواہ پیش کیے گئے، جن سے پوچھ گچھ کا عمل گزشتہ ہفتے اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تھا۔ تینوں ملزمان اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

جس ٹیم نے اس کرپشن کیس کی تحقیقات کیں، اُس کی قیادت ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر اور آج کل پنجاب میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کی خدمات انجام دینے والے حسین اصغر کر رہے تھے۔ حتمی چالان ایف آئی اے کے ایک تحقیقاتی افسر غضنفر عباس نے 2012ء میں فائل کیا تھا۔

حامد سعید کاظمی کو 2009ء کے حج آپریشن میں بے قاعدگیوں کے الزامات کے تحت پندرہ مارچ 2011ء کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ تقریباً دو سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے تھے۔ بعد ازاں تیس مئی 2012ء کو اُن کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی گئی تھی تاہم وہ مسلسل ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے رہے۔

Saudi-Arabien Islam eine Taube in Mekka

فرد جرم کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ حاجیوں کو حرم سے تین کلومیٹر دور رہائش دی گئی حالانکہ اتنی ہی قیمت میں حرم سے قریب بھی رہائش مل سکتی تھی

فردِ جرم کے مطابق ان ملزمان نے دھوکہ دہی، فریب کاری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

ان تینوں ملزمان پر خصوصی طور پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے مکہ میں پینتیس ہزار عازمین حج کو ٹھہرانے کے لیے ہوش رُبا کرائے پر غیر معیاری رہائشی سہولتیں حاصل کی تھیں اور اس سودے میں بھاری کمیشن کھایا تھا۔

2010ء اور 2012ء کے درمیان پاکستان کے قومی سیاسی منظر نامے پر زبردست ہلچل مچانے والے اس حج کرپشن کیس کے باعث حامد سعید کاظمی کے ساتھ ساتھ اعظم سواتی کو بھی وفاقی کابینہ چھوڑنا پڑی تھی۔ اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور سابق ایم پی اے عبدالقادر گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی گئی تھیں۔

DW.COM