1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حجری دور کی خوراک آج کل سے بہتر ہے

امریکہ میں آج کل غذا سے متعلق ایک نئی تحریک کا آغاز ہوا ہے۔ دیکھا جائے تو اس تحریک کا آغاز دس سال قبل کیا گیا تھا لیکن اس پر زیادہ غور نہیں کیا گیا تھا لیکن اب مختلف ادارے اس کو فروغ دینے پر کام کر رہے ہیں۔

default

 اس تحریک کے ذریعے پتھر کے زمانے کے لوگوں کی خوراک کو اب زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر لوگ حجری دور کے لوگوں کی خوراک اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کر لیں تو بہت سی بیماریوں سے مثلا موٹاپا اور ذیابیطس وغیرہ سے بچ سکتے ہیں۔

اس غذائی تحریک کو بہت سے اداروں اور فٹنس ماہرین کی حمایت حاصل ہے اور امریکہ کے کچھ طبی اداروں کی تحقیق نے بھی اس کی حمایت کی ہے حالانکہ کئی جگہوں پر اس کو حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

کولوراڈو یونیورسٹی کے صحت اور ورزش کے شعبے سائنس کے پروفیسر لورین کورڈین کے مطابق وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ میں اور دوسری جگہوں پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ حجری دور کی خوراک سے متعلق تحریک کو اپنا رہے ہیں. اس کی وجہ وہ کتابیں ہیں جو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی خوراک سے متعلق شائع ہو رہی ہیں اور جن میں اس خوراک کی اہمیت اور افادیت پر زور دیا گیا ہے۔

پروفسیر کورڈین کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے تک یہ صرف ایک غیر واضح خیال تھا لیکن پچھلے دو تین سال سے اب پوری دنیا میں اس کو مشہور کر دیا گیا ہے۔ کورڈین نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بہت سے معروف تربیتی ادارے حجری دور خوراک تحریک کو فروغ دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس خوراک سے متعلق تقریبا نصف درجن کتابیں’’ بسیٹ سیلر‘‘ کے طور پر سر فہرست ہیں۔

حجری دور کی خوراک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پتھر کے زمانے کے لوگ اس خوراک کو کھاتے ہوئے آگے بڑھے ہیں اور آج کے جدید دور میں داخل ہوئے ہیں۔ اسی لیے یہ خوراک تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ پروفیسر کورڈین کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے کہ ہم گھوڑے کو گوشت اور بلی کو گھاس نہیں کھلا سکتے اس کی وجہ ان کے جسموں کی جنیاتی ساخت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس خوراک کے بارے میں تحقیق کی ہے اور حجری دور  کی خوراک کو آج کل مستعل خوراک سے بہتر پایا ہے۔

سویڈن کے ایک طبی ادارے کی ایک رپورٹ میں بھی حجری دور کی خوراک کو زیادہ مناسب قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس میں کیلوریز کم ہوتی تھیں اور موٹاپے کے امکانات نہیں ہوتے تھے۔

رپورٹ  سائرہ ذوالفقار

ادارت  امجد علی 

 

DW.COM